خدا کے سوا کوئی ہر عیب سے پاک نہیں ہے

printer15

خدا کے سوا کوئی ہر عیب

 سے پاک نہیں ہے اِس لئے کہ خدا کے

 سوا کوئی خدا نہیں ہے

جنس کا خالق جنس طے کرنے والا خدا

 نہ صرف جنس کے عیب سے بلکہ

 ہر عیب سے پاک خدا ہے

 

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ( ہے) اُس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اُس کی صاحبہ (بیوی) ہی نہیں؟ (یعنی وہ کسی مونث کا مذکر نہیں) اور اُس نے ہر چیز کو (چاہے نر ہو یا مادہ ایک کُن کے حکم سے) پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے با خبر ہے (6:101) یہی (پاک و منزہ اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہی ایک اکیلا) ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے( کیا نر کیا مادہ اُس کی کوئی جنس نہیں وہ سبحانہٗ یعنی ہر عیب سے پاک ہے) اُسی کی عبادت (لازم جان کر) کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ونگران ہے (6:102)

 

printer15

خدا کو دیکھنا ناممکن ہے۔

اور خدا ہر بھید سے واقف دیکھ رہا ہے

 

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اُس کا اِدراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا اِدراک کئے ہوئے ہے اور وہ ہر بھید جاننے والا (ہر خبر سے) خبردار ہے (6:103)

 

printer15

خدا کے دلائل کو پرکھ کردیکھ لو

 

 تمہارے (پاس) پروردگار کے ہاں سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (اُن کو پرکھ کر) دیکھا اُس نے اُن سے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اُس نے اپنے حق میں بُرا کیا اور بتا دو کہ میں تمہارا محافظ (ضامن) نہیں ہوں  (6:104)

 

printer15

مشرکوں کے معبودوں کو

 بداخلاقی سے برا نہ کہو!

 

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں اُن کو اِس طرح سے بداخلاق ہو کر بُرا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں (بدلہ لینے کے لئے جواب میں) خدا کو بے ادبی سے بے سمجھے کچھ کہہ بیٹھیں۔ اِس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُن کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر اِن کو اپنے رَبّ کے حضور پیش ہونا ہے تب وہ اُن کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کِیا کرتے تھے(6:108)

 

printer15

اشیاء پر صرف خدا کا نام لینا

 

تو جس چیز پر صرف خدا کا نام لیا جائے اگر تم اُس کی آیتوں پر ایمان رکھتے (یعنی مومن) ہو تو اُسے کھا لیا کرو(6:118)

 

printer15

گناہ کسی کلام کے پڑھنے سے

 یا کسی کی سفارش سے یا کسی

 کی بیعت کرنے سے دور نہیں ہوتے

 

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے  (6:120)

 

printer15

جھگڑے کے جواب میں

 جھگڑنا شرک ہے ۔

معاملات کو حسنِ اخلاق سے حل کیا کرو

مومنوں کو مشرک بنانے کے لئے

 شیطان کی ایک چال جھگڑا

 کرانا بھی ہے

 

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاﺅ اسکا کھانا گناہ ہے اور شیاطین اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ اُن کے کہے میں آ گئے تو بے شک تم بھی مشرک ہوئے  (6:121)

 

printer15

اے رَبّ اے میرے خدا مجھے شرک

 سے دور رکھ اور میرا سینہ اپنی

 خالص عبادت و اطاعت

 کے لئے کھول دے

 

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اُس کا سینہ (دنیا وآخرت کی سلامتی والے) ایک اکیلے معبود کے دین کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اُس کا سینہ تنگ اور جکڑا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ (تنگی کے سبب محسوس کرتا ہے کہ) آسمان (کے درجوں) پر چڑھ رہا ہے ۔ اِس طرح خدا اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے خرابی کو مُسلّط کر دیتا ہے (6:125) اور یہی (ایک اکیلے خدا کی اطاعت کا دین) تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں اُن کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں (6:126) اُن کے لئے اُن کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔ اور وہی (ایک اکیلا خدا) اُن کا کارساز ہے  (6:127)

 

printer15

نذر نیاز، حاضری و منت تو دور کی بات

 ہے اپنے مال سے ایک حقیر شے

یا ایک روپیہ تک خدا کے غیر کے نام

 پر نہ دو ورنہ تمام کا تمام

مال گلے پڑ جائے گا

 

 اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیالِ (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں ( یعنی اولیاء یا دیوی دیوتاﺅں) کا۔ یہ کیسا ظلم ہے؟ تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کا نہیں ہو سکتا البتہ جو حصہ اِن کے نزدیک خدا کا ہوتا ہے وہ (ضرور برباد ہونے یا عذاب بننے کے لئے) ان کے شریکوں ہی کا ہو جاتا ہے (کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں)  (6:136)

 

printer15

تمام اقوام غور کریں!

کسی شے پر جب خدا کے سِوا کسی

 اور کا نام لیا جاتا ہے تو وہ شے

 حرام ہوجاتی ہے گویا یہ اِس بات

 کی دلیل ہے کہ یہ عالمین خدا نے

 کسی انسان کو خوش کرنے یا

 اپنے کسی مطلب کی خاطر راضی

 کرنے کے لئے پیدا نہیں کئے

 

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت ہوکہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی بھی چیز کہ جس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لے کر اُسے گناہ کی چیز بنا دیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے (6:145)

 

printer15

بے شک اللہ رحمٰن ہی رحمت کرنے والا

اور شدید عذاب دینے والا عالمین کا رَبّ ہے

 

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے کہ جس کی رحمت (عالمین پر ہر آن جاری اور) بے حد وسیع ہے۔ مگر اُس کا عذاب گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا (6:147)

 

printer15

خدا کا بنایا ہوا کوئی فرقہ ہے نہ فرقے

 کا راستہ بلکہ خدا تمام لوگوں کا خدا ہے

پس سب فرقے چھوڑ کر صرف

 ایک اکیلے خدا کے ہو جاﺅ

 

جن لوگوں نے اپنے دین میں ( بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں (اُنہیں چھوڑ دو) ان کا کام خدا خود تمام کر دے گا پھر جو جو کچھ وہ (کہتے اور مبالغے) کرتے رہے ہیں خدا ان کو (اُن کی حقیقت) بتائے گا (6:159) جو کوئی (خدا کے حضور) اچھائی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس اچھائیاں ملیں گی اور جو جیسی بُرائی لائے گا اسے سزا بھی ویسی ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا (6:160)

کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھایا ہے یعنی راستی کے دین والے ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کا ہو رہا تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا (6:161) (یہ بھی) کہہ دو کہ میری صلوٰة (عبادت اور اطاعت) اور (ہر کوشش اور ہر خواہش کی) قربانی اور میرا جینا (کھانا پینا، چلنا پھرنا اور معاملہ کرنا) اور میرا مرنا سب رَبِّ العالمین ہی کےلئے ہے (6:162) جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اِسی بات کا حکم ملا ہے اورمیں سب سے پہلے (اپنے رَبّ کا) فرمانبردار ہوں (6:163)

 

printer15

صرف اور صرف خدا کی آیات پر چلو

 

(لوگو) جو کتاب تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوئی ہے۔ اُس کی پیروی کرو اوراِس کے علاوہ اولیاء بنا کراُن کی (باتوں کی) پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو (7:3) اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کرڈالیں جن پر ہمارا عذاب یا تو (رات کو) آتا تھا جب وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ دوپہر کو آرام کرتے تھے (7:4) تو جس وقت اُن پر عذاب آتا تھا۔ اُن کے مُنہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (اپنے اُوپر) ظلم کرتے رہے (7:5)

 

printer15

صرف خدا ہی حاضر و ناظر ہے

اِس لئے کہ صرف خدا ہی خدا ہے

 

پھر اپنے علم سے اُن کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے (7:7)  اور اُس روز (اعمال) کا تُلنا برحق ہے۔ تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں (7:8) اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لئے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں انصاف سے کام نہ لیتے تھے( 7:9)

 

printer15

لوگ اللہ کا دیا رزق کھا کر

 غیراللہ کے گیت گاتے ہیں

 

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا اور اس میں تمہارے لئے رزق کے سامان پیدا کئے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو (7:10)

 

printer15

ابلیس کا امتحان

 

اور ہم ہی نے تم کو ( ابتدا میں پانی اور مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری شکل صورت بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے (ایک اکیلے خدا کی عبادت و اطاعت کے دینِ راست اسلام کے مطابق اپنے رَبّ کو) سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل ) نہ ہوا (7:11)

 

printer15

حکم پر عمل نہ کرنا اور اِس کا انجام

 

(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ اُس نے کہا میں اِس سے افضل ہوں تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اِسے مٹی سے بنایا ہے(7:12) فرمایا تُو (خدا کو بے خبر جان کر سمجھانے کے سبب) اپنے درجات سے گِر گیا تجھے مناسب نہیں کہ خدا کے حضور (حکم کا انکار کرنے جیسا) غرور کرے ۔ پس تُو خدا کی رحمت سے دُور ہوا تُو مردود ہے (7:13)

 

printer15

آخری دن تک مہلت

 

اُس نے کہا مجھے اُس دن تک مہلت عطا فرما جس دن (بے خبر اور مُردہ) لوگ (قبروں سے) اُٹھائے جائیں گے( 7:14) فرمایا (تیری سابقہ اطاعت کے بدلے) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے( 7:15)

 

printer15

اپنے پیروکاروں کے لئے اپنا عمل

 خدا پر ڈالنے اور خدا پر الزام

 لگا نے کی ابتداء ابلیس نے کی

 

 (پھر) شیطان (مردود) نے کہا کہ مجھے تو تُو نے اغوا کر کے گمراہ کیا ہی ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے رستے پر اُن (لوگوں کو اغوا اور گمراہ کرنے ) کے لئے بیٹھوں گا (7:16)  پھر اُن کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آﺅں گا (اور اُن کی راہ  ماروں گا) اور تُو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا (7:17)

 

printer15

خدا کا فیصلہ

 

(خدا نے) فرمایا (اب  تو) تُو تمام درجوں سے گِر گیا اور ملعون ہوا جو لوگ اِن میں سے (کسی بھی طرح) تیری پیروی (اور میرے حضور سرکشی) کریں گے میں (اُن کو اور تجھ  کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا  (7:18)

 

printer15

آدم علیہ السّلام کو احتیاط کا حکم

 

اور (ہم نے) آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی باغ میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) کھاﺅ پیو مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ گنہگار (نقصان میں مبتلا ہونے والے) ہو جاﺅ گے (7:19)

 

printer15

ابلیس کا گناہوں سے نجات اور

ہمیشہ کی زندگی کا لالچ دے کر گمراہ کرنا

جو آج بھی ابلیس کی راہ چلنے والوں میں جاری ہے

 

 تو شیطان (دونوں آدم اور حوا کو سرگوشیاں کر کے) بہکانے لگا تاکہ اُن کی شرم و حیا کی چیزیں جو اُن (معصوموں کے شعور) سے پوشیدہ تھیں اُن پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ تم (گناہوں سے دُور رہنے والے) فرشتے نہ بن جاﺅ یا ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ کر لو (7:20)

 

printer15

جھوٹی قسم کی ابتدا

 

اور اُن سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں (7:21)

 

printer15

شرم و حیا کی ابتدا

 

غرض (مردود  نے) دھوکا دے کر اُن کو ( آخرِ کار نافرمانی کی طرف) کھینچ لیا جب اُنہوں نے اس درخت (کے پھل ) کو کھا لیا تو اُن کی شرم و حیاء کی چیزیں اُن پر (شرم و حیاء طاری کر نے کے لئے) ظاہر ہو گئیں اور وہ باغ کے (درختوں کے) پتے(توڑ توڑ کر) اپنے آگے پیچھے چپکانے لگے (اور پردے بنانے لگے) تب اُن کے پروردگار نے اُن کو کلام کر کے کہا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ (نافرمانی سکھانے والا) شیطان تمہارا کُھلا دشمن ہے؟ (7:22) دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگرتُو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے (7:23) (خدا نے) فرمایا (تم مرد اور عورت اور شیطان باغ سے ) نکل جاﺅ (اب سے) تم ایک دوسرے کا نقصان کرنے والے دُشمن ہو اور تمہارے لئے ایک وقتِ مقررتک کے لئے زمین پر ٹھکانا اور (زندگی کا امتحان اور امتحان کا) سامان (طے کر دیا گیا ) ہے (7:24) (یعنی) کہا کہ اُسی میں تمہارا جینا (خدا کے احکام کے مطابق یا احکام کے خلاف) ہوگا اور اُسی میں مرنا (ہر نفس کا مقدر ہوگا) اور اُسی میں سے تم (قیامت کو دوبارہ زندہ کرکے حساب کتاب کے لئے) نکالے جاﺅ گے(7:25)

 

printer15

پردے کا حکمِ اوّل

 

اے بنی آدم ہم نے تم  پر پوشاک اُتاری کہ تمہارا پردہ  بنے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیز گاری کا لباس (ہے تو) وہ سب سے اچھا ہے یہ خدا کی آیات ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں (اور ننگے نہ پھریں)  (7:26)

 

printer15

دکھائی نہ دینے والے دشمن

 

 اے بنی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں(دھوکہ دے کر) بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بخشش اور ہمیشہ کی زندگی کا لالچ دے کراور جھوٹی قسم کھا کر) باغ میں سے نکلوایا تھا اور اُن (کی معصومیت) کا لباس پھاڑ ڈالا تاکہ اُن کی شرم و حیا کو تماشا بنا دے۔ وہ (شیطان) اور اُس کے ساتھی تم کو ایسی خفیہ جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم اُن کو نہیں دیکھ سکتے۔ (یاد رکھو) ہم نے شیطانوں کو اُنہی لوگوں کا رفیق مقرر کر دیا ہے جو (آیات پر) ایمان نہیں رکھتے (7:27)

 

printer15

دنیا ہی میں موت کے وقت اولیاء کا

 گم ہو جانا اور موت کے وقت ولایت

 کے قائل لوگوں کا خود کو

 کافر تسلیم کر لینا

 

 تو اُس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اُس کی آیتوں کو جھٹلائے؟ اُن کو اُن کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا ۔ یہاں تک کہ جب اُن کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے ۔ تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سِوا پکارتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بيشک وہ (خدا کے ساتھ انسانوں کو مددگار و کارساز مان کر خدا کی ہر طرح کی استطاعت کا انکار کرنے والے اور خدا کا شریک بنانے والے) کافر تھے( 7:37)

 

printer15

آیات کے منکروں کا انجام موت

 کے بعد بھی گمراہ رہنا ہے

 

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اوراُن سے سرتابی کی اُن کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں جا سکیں گے (بلکہ ایسے لوگ زندگی اور موت دونوں کو ترستے اور اپنے مددگاروں کو ڈھونڈتے پھریں گے) یہاں تک کہ ہو سکتا ہے اُونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے یعنی ناممکن ممکن ہو جائے مگر اِن کی نجات کسی بھی طرح ممکن نہ ہو گی اور گناہ گاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں (7:40) ایسے لوگوں کے لئے نیچے بچھونا بھی (آتشِ) جہنم کا ہوگا اور اُوپر سے اوڑھنا بھی ( آتشِ جہنم ہی کا ہو گا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں (7:41)

 

printer15

سرورِ کائنات

کائنات کا نظام چلانے والا اور

 پاسدار صرف خدا ہے

 

کچھ  شک نہیں کہ تمہارا پروردگارخدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ یوم (مرحلوں) میں پیدا کیا پھر اِن پر عرش استویٰ (اپنا قانون نافذ) کیا، وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے اور اُسی نے سُورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اُس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ دیکھو سب مخلوق بھی اُسی کی ہے اور حکم بھی (اُسی کا ہے اور) خدا ربّ العالمین بڑی برکت والا ہے (7:54)

 

printer15

غیر حقیقی معبود کی پہچان یہ ہے

 کہ وہ بات تک نہیں کر سکتا

 

اور قومِ موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بَیل کی آواز نکلتی تھی ۔ ان لوگوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ وہ (باطل معبود) نہ تو اُن سے بات کرسکتا ہے اور نہ ہی اُن کو رستہ دکھا سکتا ہے ۔ پھر بھی اُس کو اُنہوں نے (اپنا معبود یعنی نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر) بنا لیا اور(اپنے حق میں) ظلم کیا (7:148) اور جب وہ نادم  ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہو جائیں گے (7:149)

 

printer15

”ویسلموا تسلیماً“ کا ترجمہ (4:65) کے مقام پر

”اور سچے دل سے تسلیم کرلیں“ کیا گیا ہے اور

”وسلموا تسلیماً“ کا ترجمہ (33:56) کے مقام پر

”اور خوب درودو سلام بھیجو“ کیا گیا ہے۔

اِس معاملے میں آپ خود غور کریں کہ کس طرح

اللہ کا حکم آسانی سے بدل دیا گیا ہے

اور کوئی پوچھنے والا نہیں  ہے۔

 کہاں صرف ایک لفظ  تبدیل کرنا اور کہاں

ترجمے کے ذریعے آیات ہی بدل دینا

 

اور جب اُن سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّتهٌ کہنا اور دروازے میں سے داخل ہونا اور سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے( 7:161) مگر جو اُن میں ظالم تھے اُنہوں نے اُس لفظ کو جس کا اُن کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اُس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے اُن پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے(7:162)

 

printer15

یہ احسن الحدیث ہی اصل حدیث ہے

 اِس کے منکرِ اول نہ بنو!

جو ایک اکیلا خدا چاہے

 

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے اور اگر میں غیب کا علم رکھتا ہوتا (یعنی سب کچھ) جانتا ہوتا تو (اپنے لئے اور تمہارے لئے) بہت سے فائدے جمع کر لیتا اور مجھ کو (کسی بھی قسم کی) کوئی تکلیف نہ پہنچتی (مطلب یہ کہ سب کچھ خدا ہی کے اختیار میں ہے)۔ میں تو مومنوں کو خدا کے عذاب کا  ڈر اور رحمت کی خوش خبری سُنانے والا ہوں (7:188)

 

printer15

فریاد کرنے سے پہلے سلام کر کے

 یا پکار کر دیکھ تو لو کہ

 وہ جواب دیتے بھی ہیں کہ نہیں

 

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پُکارتے ہو (وہ بھی تو) تمہاری طرح کے بندے ہی تھے(اچھا) تم اُ ن کو پکارو اگر تم سچے ہو تو چاہیے کہ وہ تم کو جواب دیں (مگر جواب کہاں؟) (7:194)

 

printer15

وہ لوگ برباد ہو جائیں گے جو خدا

 سے عہد کے مطابق مسجدوں میں یہ

 کہتے ہیں کہ ”اے رَبّ ہم تیری ہی

عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے

 مدد مانگتے ہیں“ اور پھر اوروں کے

 آگے عاجزی کر کے اور اُن سے

 اُن کی مدد مانگ کر خدا سے

 کیا ہواعہد توڑ دیتے ہیں

 

مشرکوں کے لئے مناسب نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو (کہ جو خالص خدا کے ذ کر و عبادت کے لئے ہیں) آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر خود ہی (غیرِخدا کو پکار کر) کفر کی گواہی دے رہے ہوں ۔اِن لوگوں کے سب اعمال (چاہے کچھ بھی ہوں) بے کار و بر باد ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے( 9:17) خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو (ایک اکیلے مددگار) خدا پر اور روزِ قیامت پر ایمان لاتے اور خدا کی عبادت و اطاعت کرتے اور خدا کی راہ میں مال دیتے ہیں اور (ایک اکیلے) خدا کے سِوا کسی سے نہیں ڈرتے یہی لوگ خدا کی رحمت سے ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوں گے (9:18)

 

printer15

پیغامبر علیہ السلام کی ستر بار

 سفارش بھی کام نہ آئے گی

 

تم اُن کے لئے بخشِش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہی ہے) اگر اُ ن کے لئے ستّر دفعہ بھی بخشِش مانگو گے تو بھی خدا اُن کو نہیں بخشے گا یہ اس لئے کہ اُنہوں نے خدا (کے حکموں کی نافرمانی کی) اور اُ س کے پیغام پہنچانے والے (کے پیغام) سے (قولاً فعلاً) انکار کیا اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (9:80)

 

printer15

صالحین کو راضی کرنے کے لئے

 محفلیں منعقد کرنے والوں کے لئے آیت

خدا کی رضا ہی اصل بات ہے

 

 یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم اُن سے راضی ہوجاﺅ لیکن اگر تم ان سے راضی ہو جاﺅ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا (9:96) دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اِسی لائق ہیں کہ جو احکام خدا نے اپنے پیغام پہنچانے والے پر نازل فرمائے ہیں اُن سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے (9:97)

 

printer15

مشرک کے لئے دعا کرنا منع ہے

مشرکوں کوجہنم کی آگ سے

 قرابت داری بھی نہ بچا سکے گی

 

پیغامبر اور مسلمانوں کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ جب اُن پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہلِ دوزخ ہیں تو اُن کے لئے خدا سے بخشِش مانگیں۔ گو وہ اُن کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں (9:113) اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشِش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اُس سے کرچکا تھا لیکن جب اُس کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا (بے دین) دُشمن ہے تو اُس سے بیزار ہوگیا۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑا نرم دل اور متحمل مزاج تھا (9:114)

 

printer15

صاف صاف نصیحت آگئی ہے

اب آپ اپنی حالت بدلیں

 

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے جب تک اِن کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں ۔ بے شک خدا ہر چیز سے واقف ہے( 9:115) خدا ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگانی بخشتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سِوا تمہارا کوئی حامی اور مدد گار نہیں ہے(9:116)

 

printer15

خدا تو کسی بات سے بھی بے خبر

 نہیں ہے تو سفارش کرنے والے

خدا کو کونسی خبر

 دے کرسفارش کریں گے؟

 

 اور یہ ( لوگ ) خدا کے سِوا ایسے لوگوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ تو اُن کا کچھ بگا ڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ بھلا کرسکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے ہاں ہماری سفارش کرنے والے ہیں ۔ کہہ دو کیا تم خدا کو( سفارش کے ذریعے کوئی ایسی خبر دیتے یا پھر) ایسی چیز سے آگاہ کرتے ہو جس کا وجود اُسے(سفارش کرنے والوں کے بتائے بغیر) نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے نہ زمین میں؟ وہ (تو خدا ہے جو ظاہر و پوشیدہ سب کچھ جانتا ہے اور کسی خبر دینے اور معاملہ سمجھانے والے کا ہرگز محتاج نہیں ہے اور ہر طرح کی استطاعت و قدرت کا مالک اور ہر ایک سے واقف ہے جو کسی طرح سے بھی کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہر اُس عیب سے) پاک ہے(جو تم بیان کرتے ہو) اور (اُس کی شان) اُن کے (شریک مقرر کرنے اور) شرک کرنے سے بہت بُلند ہے (10:18)

 

printer15

حشر میں خدا کے سِوا بنائے گئے

مددگاروں اور کارسازوں کا بیان

 

 اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور اُن کے شریک کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے (10:28) ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بے خبر تھے (10:29) وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اُس نے آگے بھیجے ہونگے جانچ  پڑتال کر لے گا اور وہ اپنے سچّے (حقیقی) مالک ہی کے حضور پیش کئے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا (10:30)

 

printer15

خدا ہی حقیقی آقا (کارساز) و مولا(مددگار) ہے

 

(اُن سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے (یعنی نعمتیں اور خزانے عطا کرنے والا آقا و مولا کون ہے؟) یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے (یعنی تمہارا حقیقی آقا و مولا کون ہے؟) اور بے جان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور جاندار سے بے جان کون پیدا کرتا ہے (یعنی ہر طرح کی استطاعت و قدرت والا مددگار و کارساز کون ہے؟) اور دُنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے؟ (یعنی کائنات کا نظام چلانے والا سرورِ کائنات کون ہے؟) جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (جب خدا کا شریک مقرر کرتے ہو تو تب خدا کے عذابِ الیم سے) ڈرتے کیوں نہیں ہو؟ (10:31)  یہی خدا تو تمہارا پروردگارِ برحق ہے اور (اب) حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سِوا ہے ہی کیا؟ تو تم (خدا کے مومن ہونے کے باوجود) کہاں پھرے جاتے ہو؟ (10:32)

اِسی طرح خدا کا اِرشاد اِن نافرمانوں کے حق میں ثابت ہوکر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے(10:33) (اِن سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اِن کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی (تمام مخلوقات کو) پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اِن کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں (شیطان کے کہے میں آکر) کِھسکتے جارہے ہو؟  (10:34)

 

printer15

کوئی خدا کے کام میں شریک نہیں ہے

 

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ  ہے وہ کب آئے گا؟ (10:48) کہہ دو کہ میں توخود  اپنے نقصان اور فائدے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا (میرے بس میں کچھ نہیں ہے) مگر جو خدا چاہے ۔ ہر ایک اُمت کے لئے (پیغام پہنچنے اور پیغام سے شرک و کفر کے سبب انکار کے بعد برباد ہو جانے کا) ایک وقت مقرر ہے ۔ جب وہ وقت آ جاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں (10:49)

 

printer15

خدا نہ صرف ہر آن میسر بلکہ

رگِ جان سے بھی قریب ہے اور

 خالق و مخلوق کے فرق کے ساتھ

فاصلے کے بغیر ہر ایک

 کے پاس موجود ہے

 

 اور تم جس حال میں ہوتے ہو ۔ یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو تو ہم تمہارے ساتھ (رگِ جان سے بھی) قریب موجود ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ  برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیزچھوٹی ہے نہ بڑی مگر روشن کتاب میں (موجود) ہے ( 10:61)

 

printer15

ولی اللہ سے مراد وہ عبد ہے کہ

 جس کا اللہ ولی (کارساز) ہے ورنہ

 اللہ کا تو کوئی ولی یعنی کارساز نہیں ہے

اور اگر کسی کو اللہ کا ولی یعنی

مددگار و کارساز مان لیا جائے تو

 پھر اللہ کو قادرِ مطلق ماننے کی بجائے

عاجز بھی ماننا پڑے گا یہی وجہ ہے

کہ اللہ کے سوا اپنے اولیاء

بنانے والوں کو مشرک کہا گیا ہے

 

 سُن رکھو کہ خدا جن لوگوں کا ولی ہے اُن کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے (10:62) (یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (10:63)

 

printer15

بہت بڑی کامیابی

 

 اُن (ایک اکیلے خدا پر ایمان لانے والے مومنوں اور فرمانبرداروں) کے لئے دُنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ خدا کی باتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے (10:64)

 

printer15

اللہ سبحانہٗ کی عزت کرو

تمام کی تمام عزّت خدا ہی کی ہے

 

اور اِن لوگوں کی باتوں سے افسردہ نہ ہونا (کیونکہ) عِزت سب کی سب خدا ہی کی ہے اور وہ (سب کچھ) سنتا (اور سب کچھ) جانتا ہے (10:65)

 

printer15

اہلِ کتاب سے کتاب کی تصدیق کرا  لو

کہ یہ پہلی کتابوں جیسی کتاب ہے

 

 اگر تم کو اِس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (نازل کی ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں اُن سے اِس کی بابت پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس (وہی) حق آچکا ہے (جو پہلے بھی نازل کیا جا چکا ہے) تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا (10:94) اور نہ اُن لوگوں میں ہونا جو آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اُٹھاﺅ گے (10:95)

 

printer15

ہر تمنا پوری ہونے اور

 ہر مراد ملنے کا مطلب

 

جو لوگ دُنیا کی زندگی اور اُس کی زیب وزینت کے طالب  ہوں (اور خدا کی رضا کے طالب نہ ہوں) ہم اُن کے اعمال کا بدلہ اُنہیں دُنیا ہی میں دے دیتے ہیں اوراُس میں اُن کی حق تلفی نہیں کی جاتی ( 11:15) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتشِ (جہنم) کے سوا اور کچھ  نہیں اور جو عمل اُنہوں نے دُنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے سب ضائع ہوا (11:16)

 

printer15

انسانوں کی شان بیان کرنے کی خاطر مبالغہ کرنے

اور خدا کے متعلق اپنی طرف سے بنا بنا کر باتیں کرنے اور قصے سنانے والے ناسمجھ خطیب

 

اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کے متعلق جھوٹ ایجاد کرے؟ ایسے لوگ جب خدا کے حضور پیش کئے جائیں گے تو گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سُن رکھو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے (11:18) جو خدا کے رستے سے روکتے ہیں وہ اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں (11:19) یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) ہرا نہیں سکتے اور نہ خدا کے علاوہ کوئی ان کا طرفدار ہوگا ۔ ان کو دُگنا عذاب دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ (مخالفت کے سبب) نہ تو سننے کی استطاعت رکھتے تھے نہ دیکھنے کی (11:20) یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ جھوٹ ایجاد کیا کرتے تھے اُن سے جاتا رہا (11:21) بلا شُبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ  نقصان اُٹھانے والے ہیں (11:22) جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اپنے پروردگار کے حضور عاجزی کرتے رہے۔ وہی صاحبانِ جنت ہیں کہ جو ہمیشہ اس میں رہیں گے (11:23)

 

printer15

نوح علیہ السّلام کا اپنے متعلق بیان

 

 میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ (یعنی نُوری مخلوق) ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی صالح اعمال کی جزائے خیر) نہیں دے گا۔ جو اُن کے دلوں میں ہے اُسے خدا ہی خوب جانتا ہے ۔ اگر میں کچھ ایسا کہوں تو ظالموں میں سے ہوں (11:31) اُنہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے مناظرہ تو کیا اور مناظرہ بھی بہت کیا لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لا نازل کرو ( 11:32) نوح نے کہا کہ اُس کو تو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا (بھلا یہ کوئی میرے بس کی بات ہے) اور تم خدا (القہار کو کسی بھی طرح سے) ہرا نہیں سکتے (11:33)

 

printer15

جاہل نہ بنو!

خدا کو بے خبر خیال کر کے

 سفارش کرنا جاہل بن جانا ہے

 

اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں (اہلِ بیت) میں سے ہے (تُو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تُو سب سے بہتر حاکم ہے (11:45) خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں (یعنی تیری صالح اولاد میں سے نہیں) ہے۔ وہ تو بدکار و ظالم ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں اُس کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ جاہل نہ بنو (11:46)  نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں اور اگر تُو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ  پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہو جاﺅں گا (11:47) حکم ہوا کہ نوح ہمارے ہاں سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارا ساتھ  دینے والوں کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اُتر آﺅ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دُنیا کے فوائد سے) فائدہ دیں گے پھر ان کو (کہ جب نافرمانی کریں گے) ہمارے ہاں سے عذابِ الیم پہنچے گا (11:48)

 

printer15

جسے لوگ خدا کا شریک بناتے ہوں

اُس سے بیزار ہونا سنتِ انبیاء ہے

 

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ  کر) دیا ہے ۔ اُس نے کہا کہ میں خدا کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اُن سے (سخت) بیزار ہوں (11:54) (یعنی جن کی تم) خدا کے سوا(تعریف وعبادت کرتے ہو) تو تم سب مل کر میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی چاہو) کر لو اور مجھے مہلت نہ دو (11:55) میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے بھروسہ رکھتا ہوں (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے بےشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر (چلنے والوں کے ساتھ) ہے (11:56) اگر تم منہ موڑو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ  تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لا بسائے گا ۔ اور تم خدا کا کچھ  بھی نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے (11:57)

 

printer15

اُمتِ مسلمہ کے امام ابراہیم علیہ السّلام 

اور آپ کے اہلِ بیت پر خدا کی اُس

 رحمت و برکت کا ذکر کہ جس کے سبب

پیغامبر علیہ السلام نے اپنی اُمت کو درودِ ابراہیمی

جیسی دعا سکھائی اور اللہ تعالیٰ سے اپنے اور

اپنی آل کے لئے ابراہیم و آلِ ابراہیم کے برابر مقام مانگا۔

چنانچہ درودِ ابراہیمی اِسی آیت کے الفاظ پر مبنی ہے

 

فرشتوں نے (ابراہیم کی گھر والی سے) کہا کہ کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہلِ بیت تم پر خدا کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں ۔ بےشک وہ لائقِ حمد اور لائقِ عزت ہے ( 11:73)

 

printer15

گنہگاروں کے لئے ابراہیم علیہ السّلام

کی سفارش بھی نامنظور ہوگئی

 

جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور اُس کو خوشخبری بھی مل گئی تو قومِ لوط کے بارے میں لگا ہم سے بحث کرنے (11:74) بے شک ابراہیم بڑا تحمل والا، نرم دل اور رجوع کرنے والا تھا۔ (کہا گیا کہ) اے ابراہیم اِس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے اور اُن لوگوں پر وہ عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح ٹلنے والا نہیں ہے (11:76)

 

printer15

خدا کے سِوا پکارے جانے والے

 تباہ  کروانے والے ثابت ہوتے ہیں

 

اور ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ اُنہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ آخر کار جب تمہارے رَبّ کا حکم آ پہنچا تو جن معبودوں (مددگاروں) کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ اُن کے کچھ بھی کام نہ آئے اور اُن کو تباہ کروانے کے سوا اُن کی خاطر کچھ بھی نہ کر سکے (11:101)

 

printer15

پیغامبر علیہ السلام کو دنیا میں بھی

 اللہ کی طرف سے یہ حکم تھا کہ

 آپ ظالموں کی طرف مائل نہ ہوں۔

ایسے میں ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ

 آپ علیہ السلام محشر میں کیونکر

ظالموں کی شفاعت فرمائیں گے؟

ظالموں سے تعلق اور آگ کا عذاب

 

اور جو لوگ ظالم (بدکار) ہیں اُن کی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں آگ آ لپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اورکوئی ولی نہیں ہیں اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو مدد نہ مل سکے گی (11:113)

 

printer15

متشابہ آیات کے بیان کا مقصد

 

 (اے پیغامبر) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم (تم کو حوصلہ دیتے اور) تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں اور ان (رسولوں کے ذ کر پر مبنی آیات) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور (یہ) مومنوں (عمل کرنے والوں) کے لئے نصیحت اور عبرت ہے (11:120)

 

printer15

بیانِ توحید

بے فکر رہو سب کچھ تمہارے رَبّ کے قبضہ قدرت میں ہے

 

 اور آسمانوں اور زمین کی چُھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے اور تمام امور کا معاملہ اُسی کی بارگاہ کے فیصلے کا محتاج ہے۔ تو اُسی کی عبادت کرو اور اُسی پر بھروسا رکھو ۔ اور جو کچھ تم  کر رہے ہو تمہارا پروردگار اُس سے بے خبر نہیں ہے (11:123)

 

printer15

بیانِ توحید

الگ الگ آقا و مولا اچھے یا ایک ہی آقا و مولا اچھا؟

 جو سب پر غالب ہے یعنی خدا

 

اے میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدا یکتا و غالب؟ (جو ہر معاملے اور ہرمشکل کو حل کرنے کے لئے کافی ہے) (12:39)

 

printer15

اعوذ باللہ

کوئی انسان نفس کے بغیر پاک پیدا نہیں ہوا

اور نفس انسان کو برائی پر اُکساتا رہتا ہے

پس اللہ تعالی سے اپنے نفس کے خلاف بھی پناہ مانگو

 

اور میں خود کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس بُرائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے (اور اِس سے بچائے)۔

بے شک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے (12:53)

 

printer15

غیب کا علم نہ ہونے کے سبب رنج و افسوس

 

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہلِ مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجئے اور ہم (اس بیان میں) بالکل سچے ہیں (12:82) (جب اُنہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کرکہی تو) اُس نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تمہاری مَن گھڑت بات ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے ۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے (12:83)

 

printer15

خدا کے حضور اظہار غم کے لئے رونا

 

پھر (یعقوب) ان کے پاس سے چلا گیا اور کہنے لگا کہ ہائے افسوس۔ یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں اُس کی آنکھیں سفید (اندھی) ہو گئیں اور اُس کا دل غم سے بھر رہا تھا (12:84)  بیٹے کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے (12:85) اُس نے کہا کہ میں تو اپنے رنج و غم کا اظہار خدا ہی سے کرتا ہوں اور خدا کے ہاں سے وہ (حکمت کی) باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (12:86)

 

printer15

صرف اللہ ولی ہے اور اللہ کے سوا

کوئی کسی کا ولی نہیں ہے

 

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دُعا کی کہ) اے میرے پروردگار تُو نے مجھے حکومت سے نوازا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا ولی ہے ۔ تُو مجھے (دُنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اُٹھانا اور(آخرت میں) صالحین میں شامل کرنا (12:101) (اے پیغامبر) یہ باتیں اخبارِغیب میں سے ہیں۔ جو ہم تم پر نازل کرتے ہیں اور جب برادرانِ یوسف نے اپنی بات سے اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم اُن کے پاس (موجود) تو نہ تھے؟( 12:102)

 

printer15

خدا کے سوا کسی کو کارساز خیال کر کے نہ پکارو

کہ یہ کفر ہے

 

فائدہ مند پکارنا تو اسی (ایک اکیلے خدا) کا ہے اور جن کو یہ لوگ اُس کے سِوا پکارتے ہیں وہ اُن کی پکار کو بھی کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو (بے بسی کے سبب) اپنے دونوں ہاتھ  پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اُس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارنے والے) کافروں کی پکار بے کار ہے (13:14)

 

printer15

خدا کے سِوا نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر کارساز

بنانے والے تمام لوگ مشرک ہیں

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے؟ ( یہ بھی ) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہے؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا اُنہوں نے (ہر شے پر قادر ہونے کے سبب) خدا کی مخلوق سی مخلوقات پیدا کی ہیں جس کے سبب ان کو مخلوقات میں تمیز کرنی مشکل ہو گئی ہے؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ اکیلا ہی (میرے لئے کافی اور) زبردست القہار ہے (13:16)

 

printer15

خدا کے سِوا کوئی رحمٰن نہیں ہے

پس رحمٰن ہی کو رحمٰن ایک اکیلا

تمام مخلوقات پرمہربانی اور رحمت کرنے والا مانو

اوررحمٰن کے سِوا رحمٰن بنا کر

لا الہ الا اﷲ کا انکار نہ کرو

( جس طرح ہم پہلے پیغام بھیجتے رہے ہیں ) اسی طرح ہم نے تم کو بھی اُس اُمت میں جس سے پہلے بہت سی اُمتیں گزر چُکی ہیں (پیغام دے کر) بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ جو ہم نے تم پرنازل کیا ہے پڑھ کر سُنا دو ۔ اور یہ لوگ رحمٰن کو (تمام مخلوقات پر مہربانی اور رحم کرنے والا) نہیں مانتے کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اُس کے سوا کوئی (نفع یا نقصان پہنچانے والا رحمٰن یعنی) معبود نہیں ہے۔ میں اُس پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اُسی کے حضور متوجہ ہوتا ہوں  (13:30)

 

printer15

یہ نصیحت کی کتاب ہے اِس پرعمل کرو

اور اِس کتاب کی آیات کو جادو

یعنی شرک کرنے کا ذریعہ نہ بناﺅ

 اور اگر کوئی کلام ایسا ہوتا کہ اُس سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مُردوں سے کلام کر سکتے تو (یہی قرآن ہوتا مگر ایسا نہیں ہے) بات یہ ہے کہ سب اُمور خدا کے اختیار میں ہیں۔ تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا؟ اور کافروں پر ہمیشہ اُن کے اعمال کے بدلے آفت آتی رہے گی۔ یا اُن کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بے شک خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ہے (13:31)

 

printer15

کیا لوگوں کے بنائے ہوئے شریک

خدا کو اُس کی مخلوق کی خبر دیتے ہیں؟

یا سفارش یا پھر درخواست کے ذریعے

کوئی ایسی بات بتاتے ہیں کہ جو اِن کے

بتائے بغیر خدا جان ہی نہیں سکتا؟ (نعوذ باللہ)

تو کہو جو (خدا) ہر سانس لینے والے کے اعمال کا نگراں ( و نگہبان) ہے (کیا وہ جنّ و بشرکی طرح بےعلم و بے خبر ہوسکتا ہے؟) اور ان لوگوں نے (کس لئے اور کیوں) خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں؟ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے (من گھڑت) نام تو لو ۔ پھر پوچھو کیا تمہارے خیال میں یہ خدا کوایسی بات یا خبر سناتے (یا پہنچاتے) ہیں جس کوخدا زمین میں (یا آسمانوں میں) معلوم نہیں کر پاتا یا پھر یہ محض بیان بازی ہے؟ (کیا خدا ہر شے سے خبردار نہیں ہے؟) حقیقت یہ ہے کہ کافروں کو اپنے خیالات خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ۔اور وہ (ہدایت کے) رستے سے (شیاطین کی طرف سے وسوسوں کے ذریعے) روک دئیے گئے ہیں اور جسے خدا (اُس کے شیطانی اعمال کے سبب) گمراہ قرار دے دے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے (13:33)

اِن کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے اور اُ ن کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ہے (13:34) جس باغ کا متقیوں (خدا کے غضب سے ڈرنے والوں) سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ اُس کے اوصاف یہ ہیں کہ اُس کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں۔ اُس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اُس کے سائے بھی یہ اُن لوگوں کا انجام ہے جو متقی (ایک اکیلے خدا کے عذاب سے ڈرنے والے باعمل پرہیزگار) ہیں اور (بے عمل گنہگار) کافروں کا انجام دوزخ ہے  (13:35)

 

printer15

خدا کی آیات اور خدا کا حکم و اختیار ….

اُمُّ الکتاب خدا ہی کے پاس ہے

 

خدا جوچاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اوراُسی کے پاس اُمُّ الکتاب ہے (13:39)

 

printer15

تمہارا کام صرف پیغام کا پہنچانا ہے

اور ہمارا کام پیغام کے مطابق حساب لینا ہے

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو اُن پر نازل کریں) یا  تمہاری مدتِ حیات  پوری کر دیں تو تمہارا کام (صرف ہمارے پیغام و احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ( 13:40)

 

printer15

خدا پر بھروسا رکھو اور

خدا کے سِوا کسی کی پرواہ نہ کرو!

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی (بہت سی) چالیں چلتے رہے ہیں سو چال تو سب اللہ ہی کی ہے ہر متنفس جو کچھ کر رہا ہے وہ اُسے جانتا ہے اور کافر جلد معلوم کرینگے کہ عاقبت کا گھر کس کے لئے ہے؟  ( 13:42)

 

printer15

اندھیرے سے روشنی کی طرف

(یہ) ایک کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاﺅ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابلِ تعریف (خدا) کے (دکھائے ہوئے) رستے کی طرف ( 14:1)

(مالک تو) خدا (ہے) کہ جو کچھ  آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اکیلے اُسی خدا ہی کا ہے اور آیات کا انکار کرنے والوں کے لئے سخت عذاب (کی وجہ) سے خرابی ہے (14:2) جو آخرت کی نسبت دُنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں (14:3)

 

printer15

 شیطان کا لوگوں کو دوزخ میں پہنچا کر سچ سے آگاہ کرنا

جب (حساب کتاب کا) کام فیصل ہو چکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (یعنی صالح اعمال کے بدلے جنت وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے(گناہوں کی بخشش کروانے اور نجات دلانے والے خدا کے شریک بنا کے اور تم سے شرک کرا کے) کیا تھا وہ جھوٹا تھا ۔ میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا ۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بے دلیل) میرا کہا مان لیا ۔ تو آج مجھے ملامت نہ کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم مجھے (میرا کہا مان کر خدا کا) شریک بناتے تھے ۔ بے شک جو ظالم ہیں اُن کے لئے درد  دینے والا عذاب ہے (14:22) اور جو (توحید  پر) ایمان لائے اور(کتاب کے مطابق) صالح عمل کئے وہ بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ اُن میں رہیں گے ۔ وہاں اُنہیں امن و سکون مبارک و نصیب ہو گا ( 14:23)

 

printer15

گمراہ اور شرک کرنے والے پیشوا

کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اُتارا؟ (14:28)  (وہ گھر) دوزخ ( ہے اپنے عمل سے آیات کا انکار کرنے والے سب ناشکرے) جس میں داخل ہوں گے اور وہ بُرا ٹھکا نہ ہے (14:29) اور ان لوگوں نے (مبالغے اور بیان بازی کر کے) خدا کے شریک مقرر کئے کہ ( لوگوں کو) خدا (کے دکھائے ہوئے سلامتی) کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ ( چند روز تک دولت اور عزت کما لو) فائدے اُٹھا لو آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لَوٹ کر جانا ہے (14:30)

 

printer15

اُس دن نجات صرف اُن لوگوں کی
ہوگی جو ایک اکیلے خدا کے سچے
فرمانبردار ثابت ہوں گے

 

یہ لوگوں کے نام ( خدا کا پیغام ) ہے تاکہ اُن (تمام عمل کرنے والوں) کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ (مشرک و کافر) جان لیں کہ وہی ایک اکیلا (رحمت و عذاب نازل کرنے والا) معبود ہے اور تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں (اور اپنی اور سب کی اصلاح کریں)  (14:52)

 

printer15

آیات کے منکر کافروں کی آرزو

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ کیا ہی بھلا ہوتا اگر وہ ایک اکیلے خدا کے فرمانبردار ہو گئے ہوتے (15:2) اُن کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ جو چاہیں کھا پی لیں اور فائدے اُٹھا لیں اور (انسانوں کے متعلق) بے بنیاد عقیدے اور(اُن سے وابستہ) اُمیدیں اُن کو (انسانوں کے آگے عاجزی و تعریف کے گیت گانے میں) مشغول کئے رہیں عنقریب اُن کو اس (خدا کے مقابلے میں غیرِ خدا کی حمد و حمایت اور پوجا پاٹ جیسے شرک) کا انجام معلوم ہو جائے گا (15:3)

 

printer15

خدا کے سِوا کوئی روزی نہیں دیتا
لہذا خدا کے سوا کوئی
آقا و مولا اور داتا نہیں ہے

 

اور ہم ہی نے (اے پیغامبر) تمہارے لئے اور اُن لوگوں کے لئے جن کو تم روزی نہیں دیتے اِس (زمین) میں معاش (روزی) کے سامان پیدا کئے (15:20) اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو (لوگوں کے لئے بِلا شرکتِ غیر) مناسب مقدار میں اُتارتے رہتے ہیں (15:21) اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے ) بھری ہوئی (ہوتی ہیں) اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خزانہ نہیں رکھتے (15:22)

 

printer15

صرف اللہ وارث کہو!

 اور ہم ہی حیات بخشتے اور موت دیتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث ہیں (15:23) اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں (15:24)

 

printer15

خدا کا احسان سب سے بہترین
دعا الحمد اور قرآن کی عطا 

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو( نماز میں) دُہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سُورہ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے (15:87)

 

printer15

خدا ہی قادرِ مطلق خدا ہے

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا (یعنی عاجز انسان یا مردہ بُت کی طرح) ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کر سکے تو پھر کیا تم (توحید کے درس کو) یاد رکھو گے؟(16:17) اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گِن نہ سکو۔ بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے (16:18) اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ  ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے (16:19)

 

printer15

بے بس لاشیں

 

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سِوا پکارتے ہیں وہ کوئی بھی چیز نہیں بنا سکتے بلکہ وہ تو خود (خدا کے پیدا کئے ہوئے انسان ، جنّ، فرشتے یا جانور ہیں یا اِن کے اپنے ہاتھوں سے لکڑی، پتھر یا دھات یا تصورات سے) بنائے ہوئے (بُت) ہیں ( 16:20) (وہ) لاشیں ہیں بے جان۔ اُن کو تویہ بھی معلوم نہیں کہ کب اُٹھائے جا ئیں گے؟ (16:21) تمہارا (نفع و نقصان کرنے والا) معبود تو ایک اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں (16:22) یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور ظاہر کر تے ہیں خدا ضرور اس کو جا نتا ہے ۔ خدا سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ( 16:23)

 

printer15

بعض اہلِ تصوّف مشرکوں کے عقائد

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ تو ہم اُس کے سِوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اُس کے (چاہے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے(بھی یہی شیطانی خیال کہ ہم  وہی کرتے ہیں جو خدا ہم سے کرواتا ہے پیش) کیا تھا۔ تو پیغام پہنچانے والوں کے ذمّے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سِوا اور کچھ نہیں ہے (16:35) اور ہم نے ہر جماعت میں پیغام پیش کرنے والا بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور طاغوت (بُتوں اور انسانوں اور جِنّات کی پوجا) سے باز آﺅ۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے (اُن کے عجز کے سبب) ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر (بُرے اعمال کے سبب) گمراہی ثابت ہوئی سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟ (16:36) اگر تم ان (ہدایت سے منہ پھیر لینے والوں) کی ہدایت کے لئے للچاﺅ توجس کو خدا (اپنی مخالفت کے سبب) گمراہ قرار دے دیتا ہے اسکو وہ (بعد میں کسی کی خاطر) ہدایت یاب نہیں کیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مدد گار بھی نہیں ہوتا (16:37)

 

printer15

ایک ہی کارساز(داتا)،
ایک ہی مددگار(مولا)،
ایک ہی وارث اور ایک ہی رحمٰن
تمام عالمین اور اِن میں آباد مخلوقات
پر مہربانی اور رحم کرنے والا ہے
جس کا کوئی ہم پلہ اور شریک نہیں ہے

 

 اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود (رحمٰن یا وارث) نہ بناﺅ معبود (نفع و نقصان پہنچانے پر قادر) وہی ایک اکیلا ہے تو اُسی کے غضب سے ڈرتے رہو (16:51)

 

printer15

 خدا ہی کے پاس ہر طرح کا اختیار ہے

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اُسی خدا کا ہے اور اُسی کی عبادت (عاجزی کرنا اور تعریف کرنا) لازم ہے تو (کیا بات ہے) تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو؟ (تو حوصلہ کرو اور اُس کی طرفداری بِلا خوف کرتے رہو) (16:52)

 

printer15

اللہ کی عطا کو کسی اور کی عطا نہ کہو

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا ہی کی عطا ہیں ۔ پھر جب تم کو کوئی سخت تکلیف پہنچتی ہے تو اُسی کے حضور (خالص ہو کر) چلاّتے ہو (16:53) پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دُور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں (16:54) تاکہ جو(نعمتیں) ہم نے اُن کو عطا فرمائی ہیں اُن کی ناشُکری کریں تو (اے شرک کر کے ناشکری کرنے والو!) دُنیا میں فائدے اُٹھا لو ۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا (16:55)

 

printer15

چڑھاوے اور نیازیں اور بُتوں کی نذریں

 

اور ہمارے دئیے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصّہ مقرر کرتے ہیں جن کی حقیقت جانتے ہی نہیں۔ خدا کی قسم کہ جو تم جھوٹ بیان کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پُرسش ہو گی (16:56)

 

printer15

خدا کے ساتھ خدا کا شریک بنانے والے
کسی قیمت پر اپنا شریک پسند نہیں کرتے
نہ بیوی میں، نہ اولاد میں،نہ جائیداد میں
اور خدا کی خدائی میں بِلا دلیل
اوروں کو شریک بتاتے ہیں

 

اور یہ خدا کے لئے ایسی (باتیں) تجویز کرتے ہیں جن کو خود نا پسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کےلئے (دوزخ کی آگ) تیار ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے (16:62)

 

printer15

استطاعت کے بغیر مردہ ، ناکارہ اور عاجز لوگوں کو

مثالیں دے کر خدا کا شریک بتانے والے

 

اور (یہ لوگ تو) خدا کے سوا ایسوں کو (نذر نیاز دے کر اور عاجزی وتعریف کر کے) پوجتے ہیں کہ جو اُن کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا سا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ (کسی اور طرح کی) استطاعت (وقدرت) رکھتے ہیں (16:73)  تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط باتیں اور) مثالیں نہ بناﺅ صحیح مثالوں کے بیان کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (16:74)

 

printer15

غلام کی غلامی ہو یا سخی بادشاہ کی غلامی،
خدا کی غلامی دونوں سے بہتر ہے
انسان تو یہ جانتا ہی نہیں ہے کہ
اُس نے کسی کا فائدہ کس طرح کرنا ہے۔
وہ تو فائدہ پہنچانے کے چکر میں
اُلٹا نقصان کر دیتا ہے اور
خدا کے مقابلے میں نرا جاہل ہے

 

خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے (جسے ضرورتوں کے لئے آقا بنا لیا گیا ہے اور) جو دُوسرے (آقا) کے اختیار میں (بے بس اور فقیر) ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (اپنا غلام اور فقیر ہونے کے سبب بہت سا) مال جائز طور پر عطا فرمایا ہے اور وہ اُس میں سے(رات  دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمد للہ (خدا کی غلامی ہی سب سے بہتر ہے) لیکن اُن (شرک کرنے والوں) میں سے اکثر لوگ سمجھ  نہیں رکھتے (16:75) اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا ( درست بات کرنے سے عاجز بُت یا مُردے جیسا) ہے اِس لئے کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو (نوکری میں ناکام ہونے کے سبب) دو بھر ہورہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کوئی بھی کام درست طور پر سر انجام دے کر کبھی) بھلائی نہیں لاتا (بلکہ اُلٹا نقصان پر نقصان کئے جا رہا ہے) ۔ کیا ایسا (ناکارہ غلام یا نوکر) اور وہ شخص جو (ہر کام اور ہر بات درست طور پر کرتا ہے اور) لوگوں کو انصاف کرنے کاحکم  دیتا ہے اور خود (خدا کے حضور نوکری وعاجزی جیسے) سیدھے رستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟ (نہیں۔ تو پھر سیدھی طرح خدا ہی کی غلامی اور اطاعت کرو)  (16:76)

 

printer15

اُس دن خدا کے شریک مانے جانے والوں کا
پہچاننے ہی سے صاف انکار کر دینا

 

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا (شافی و کافی سمجھ  کر) پکارا کرتے تھے تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کر دیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم کذاب (شیطان کے پیروکار) ہو (16:86) اور اُس دن خدا کے حضور سب کے سر جُھک جائیں گے اور جو طوفان وہ (اپنے کلاموں اور شاعری میں) باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا (16:87)

 

printer15

صرف اللہ پر بھروسہ

 کہ جو مومن ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اُس (شیطان) کا کچھ زور نہیں چلتا (16:99)

 

printer15

خدا کے سوا کسی پر بھی بھروسہ شرک ہے

 

 شیطان کا زور اُنہی لوگوں پر چلتا ہے جو (شیطان کی باتوں میں آ کر) اُس کو رفیق بناتے ہیں اور اُس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں (16:100)

 

printer15

خدا کے عالمین اور خدا کی اشیاﺀ
اگر کسی شے پر خدا کے نام کے سِوا

کسی اور کا نام لیا جائے تو
ایسا کرنے سے وہ شے حرام ہو جاتی ہے

اور یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ سب کچھ

خدا ہی کا ہے اور یہ عالمین کسی انسان

یا انسانوں کی خاطر خدمت نہیں ہے 

 

اُس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کر دیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سِوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی حرام کر دیا ہے) ہاں اگر کوئی ناچار ہو جائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ ہی حد سے نکلنے والا ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے(16:115)

 

printer15

1- ابراہیم علیہ السلام لوگوں کے امام تھے۔
2-  آپؑ اللہ کے فرمانبردار (مسلم) تھے۔
3-  آپؑ ایک خدا کے ہو رہے تھے ۔
4-  آپؑ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
5-  آپؑ خدا کی تمام نعمتوں کے شکر گزار تھے۔
6- خدا نے آپؑ کو خالص اور برگزیدہ کیا تھا۔
7- خدا ہی نے آپؑ کو صراطِ مستقیم پر چلایا تھا۔
8- خدا نے آپؑ کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔
9-  آپؑ آخرت میں بھی صالحین میں سے ہونگے۔
خود اللہ تعالیٰ کی بیان کی ہوئی ابراہیم علیہ السلام کی اِن نو (9)
خوبیوں کے سبب قیامت تک صراطِ مستقیم یا دین صرف
اور صرف ابراہیم علیہ السلام کی پیروی ہے۔

 

بے شک ابراہیم (لوگوں کا) امام (اور) خدا کا فرمانبردار تھا ۔ جو ایک خدا کا ہو رہا تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا (16:120) اُس کی نعمتوں کا شکر گزار تھا ۔ خدا نے اُس کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا (16:121) اور ہم نے اُس کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی صالح لوگوں میں سے ہو گا (16:122) پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دینِ ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک خدا کا ہو رہا تھا اور مشرکوں میں سے نہ تھا (16:123)

 

printer15

تبلیغ کا طریقہ

 لوگوں کو دانش اور اچھی نصیحت سے اپنے پروردگار کے دکھائے ہوئے رستے کی طرف بلاﺅ اور بہت ہی اچھے طریقے سے دلائل کے ساتھ اُنہیں سمجھاﺅ ۔ جو خدا کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں اُن سے بھی خوب واقف ہے (16:125)

 

printer15

معراج کے متعلق اِس آیت میں
معراج کا مقصد آیات (نشانیاں) دکھانا
بتایا گیا ہے نہ کہ کسی اور مقصد کے
لئے بلانا اورسفر کا ذ کر
صرف خانہ کعبہ سے بیت المقدس
تک ہی بیان کیا گیا ہے۔
اچھی طرح غور کر لیں۔

 

 وہ (خدا ہر عیب سے اور ہر ضرورت سے) پاک ہے(اور پاک ہے ہر طرح کی کمی سے بھی کہ جس کا شکار ہو جانے کے بعد مخلوق عاجز و مجبور، حقیر و پست، مغلوب و فقیر، دیوالیہ و سوالیہ، تباہ و برباد ہو کر سوالی و دعا گو اور ناکارہ ہو کر کارساز و مددگار ڈھونڈنے نکل پڑتی ہے۔ تم سب کا وہی قادرِ مطلق خدا ہے) جو ایک رات اپنے بندے (عبد) کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ اُسے اپنی (عظیم الشان قدرت کی) آیات دکھائے۔ بے شک وہ (ہر جگہ ہرآن موجود و میسر) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے( 17:1)

 

printer15

دنیا کے طالب ،جادوگر اور

خواہشات کی تکمیل کے اشتہارات

 

جو شخص دنیا (کی آسودگی کی خاطر شیطان سے مدد مانگنے) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے جس میں وہ اعلان کا بِگل سُن کر اور دھتکارا ہوا داخل ہوگا (17:18) اور جو شخص آخرت کا خواست گار ہو اور اِس میں اتنی کوشش کرے کہ جتنی کوشش کے وہ لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے (17:19) ہم اُن کو اور سب کو تمہارے پروردگار کی رحمت (ونعمت) سے مدد دیتے ہیں اور تمہارے پروردگار کی رحمت (و عطا اِس دنیا میں) کسی سے رکی ہوئی نہیں ہے (17:20) دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور آخرت درجوں میں (دُنیا سے) بہت بہتراور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے (17:21)

 

printer15

شرک ظلمِ عظیم ہے اور شرک
کسی کو بھی معاف نہیں ہے چاہے
شرک کرنے والا کوئی ہو

 

(اے پیغامبر) یہ (احکام) اُن (ہدایات) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تم پر وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود (نفع و نقصان پہنچانے والا کارساز و مددگار) نہ بنانا کہ (ایسا ظلم کیا تو پھر) ملامت زدہ اور (خدا کے ہاں سے) دُھتکارے ہوئے ہو کر جہنم میں ڈال دیئے جاﺅ گے (17:39)

 

printer15

خبردار شیطان سے بچو اور سدا
دل پذیر اور شائستہ بات کرو!

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ ( لوگوں سے سوچ سمجھ کر) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ (خوب) ہوں۔ کیونکہ شیطان (بیہودہ، اشتعال انگیز، فضول، سخت اوربُری باتوں سے) اُن میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا (بے راہ کرنے والا) کُھلا دشمن ہے (17:53)

 

printer15

ابلیس کا غرور 

 

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے لئے (اپنے رَبّ کے حضور) سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا بھلا میں ایسے شخص کے لئے (تیرے حضور) سجدہ کروں جس کو تُو نے مٹی سے پیدا کیا؟ (17:61)

 

printer15

نسل آدم کی جڑ کاٹنے کا چیلنج

 

 ( اور ازراہِ طنزاللہ تعالیٰ سے) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی ہے وہ (آدم) جسے تُو نے مجھ  پر فضیلت دی ہے؟ اگر تُو مجھے قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی (شرک کرا کے) جڑ کاٹتا رہوں گا  (17:62)

 

printer15

جہنم کی سزا تک مہلت

 

خدا نے فرمایا (اے ابلیس ! تُو میری رحمت اور مہربانی کے قابل نہیں ہے پس میری رحمت سے) دور ہو جا جو شخص ان میں سے تیری (قولاً فعلاً) پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) بڑی سخت سزا (ہے) (17:63)

 

printer15

شیطان کی آواز، شرک کی دعوت پر

 مبنی تقریریں اور غیرِ خدا

 کے ذ کر کی محفلیں

 

اور ان میں سے جس کو گمراہ کر سکے اپنی (حمایت کرنے والوں کی) آواز سے گمراہ کرتا رہ ۔ اور اُن پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور اُن کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور اُن سے وعدے کرتا رہ اور شیطان جو وعدے اُن سے کرتا ہے سب دھوکا ہیں (17:64)

printer15

اللہ ہی کافی ہے

 

 جو میرے مخلص بندے ہیں اُن پر تیرا کچھ زور نہیں اور (اے میرے مخلص بندو!) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے (17:65)

 

printer15

گم ہو جانے والے غیر حقیقی کارساز

 

 تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اُس کے فضل سے (روزی) تلا ش کرو ۔ بے شک وہ تم پر مہربان ہے (17:66) اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے ) تو جن کو تم (مدد کے لئے) پکارا کرتے ہو سب اُس (پروردگار) کے سِوا گُم ہو جاتے ہیں پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا (17:67) کیا تم (اس سے) بے خوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے ۔ پھر تم (بھاگتے پھرو اور) اپنا کوئی نگہبان نہ پاﺅ؟ (17:68) یا (اس سے) بے خوف ہو کہ تم کو دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلا دے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے پھر تم اُس غرق کے بعد (اپنی حمایت میں) کوئی پیچھے آنے والا  نہ پاﺅ؟ (17:69)

 

printer15

اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رکھتے تو

 

جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر و مشرک) لوگ تم کو اس سے ہٹا دیں تاکہ تم اس کے سِوا اور باتیں ہماری نسبت بنا لو اور اُس وقت یہ تم کو دوست بنا لیتے (17:73) اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رکھتے تو تم اپنی طرف سے کسی قدر اُن کی طرف مائل ہوجانے پر آمادہ ہوگئے تھے (17:74) اُس وقت (اگر ایسا ہو جاتا تو) ہم یقیناً تم کو زندگی میں بھی (اپنے غضب اور عذاب کا) دُگنا اور مرنے پر بھی دُگنا مزا چکھاتے ۔ پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مدد گارنہ پاتے (17:75)

 

printer15

حق آ گیا ہے

 

اور کہہ دو کہ (یہ خدا کا پیغام اور) حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا بے شک باطل نابود  ہونے والا ہے (17:81)

 

printer15

اِھۡدِناَ الصِّرَاطَ اۡلمُسۡتَقِیۡمَ

اصل شے خدا کی ہدایت ہے

 

اور ہم قرآن (کے ذریعے اپنی ہدایت) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے( 17:82)

 

printer15

میں تو خدا نہیں ہوں، میں تو صرف

 ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔

میرے در کے سوالی نہ بنو

 

اور کہنے لگے کہ ہم تمہارا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دو ( 17:90) یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اوراس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو (17:91) یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے لا گراﺅ یا خدا اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لے آﺅ  (17:92)  یا تمہارا سونے کا گھر ہو ۔ یا تم آسمان پر چڑھ جاﺅ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب (آسمان سے) نہ لاﺅ جسے ہم پڑھ بھی لیں کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے۔ میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں (نہ کہ خدا جو سب کچھ کر سکنے پر قادر ہے) (17:93)

 

printer15

انسان تو دل کا بہت تنگ ہے

 

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ہاتھوں کو) بند کر رکھتے اور انسان (کچھ بھی ہو اور کوئی بھی ہو فطرتاً) دل کا بہت تنگ ہے (17:100)

 

printer15

اللہ اکبر کہنے کا حکم ۔

اگر خدا عاجز و ناتواں ہوتا تو اُس کے

 ولی (دوست، مددگار یا کارساز) ہوتے

 مگر خدا ہر شے پر قادر ہے اور ہر

طرح کی استطاعت کا ایک اکیلا

مالک ہے جو ایک حکم سے آنِ واحد

میں جو چاہے کرسکتا ہے۔

خدا کو کسی کا محتاج خیال

 کرنا ظلمِ عظیم شرک ہے

 

اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کے لئے ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں اُس کا کوئی (اور) شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز وناتواں (اور بے بس) ہے کوئی اس کا (ولی) مدد گار ہے اور اس کو بڑا (اکبر) مان اور جان کر اُس کی بڑائی (کبریائی بیان) کرتے رہو (17:111)

 

printer15

شرک کے تمام بُت توڑ دینے والی آیت۔

 حکم صرف اور صرف اللہ ہی کا ہے

 اور اللہ اپنے حکم میں کسی کو بھی

شریک نہیں کرتا۔ کیا کسی کی سفارش،

 کیا کسی کی شفاعت،

کیا کسی کی خواہش یا فرمائش

 

 اُسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں (معلوم) ہیں ۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اُس کے سِوا ان کا کوئی (ولی) کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی(کی مرضی یا مشورے یا ناراض ہونے کے خوف اور ڈر) کو شریک کرتا ہے (18:26)

 

printer15

تمام جادوگر اور جبت و طاغوت کا

کاروبار کرنے والے شیطان

 اور شیطان کے اولیاء ہیں

 

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے(اللہ کے حضور) سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس جو جنّات میں سے تھا اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ تو کیا اب تم اس ابلیس کو اور اس کی اولاد (جادوگروں اور شیطانوں) کو میرے سوا اپنا ولی (دوست، کارساز) بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ تو (اللہ کے سوا اپنے اولیاء کو پکار کر دیکھ لو) ظالموں کے لئے (اُن کے اعمال کا) بُرا بدلہ ہے (18:50)

 

printer15

اگر خدا ہر شے پر قادر ہونے کی بجائے

 کچھ معاملات میں عاجز ہوتا تو تمام

 مشرک سچے ہوتے مگر ہر الہامی

کلام کے مطابق خدا ہر شے پر قادر ہے

 پس شرک کا کوئی جواز نہیں ہے۔

خدا تو خدا ہے اورخدا قادرِ مطلق

ہمیشہ سے قادرِ مطلق اور ہر طرح

کی استطاعت کا اکیلا مالک ہے

 

میں نے اُن (لوگوں کے بنائے کارسازوں) کو نہ تو آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت (کام میں حصہ لینے اور شریک ہونے کے لئے) بُلایا  تھا اور نہ خود اُن کے پیدا کرنے کے وقت (اُن کی رائے لی تھی) اور میں ایسا نہیں کہ گمراہ کرنے والوں کو (جو خود اِس قابل نہیں کہ سیدھا چل سکیں اور ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے میرے ہی محتاج ہیں) اپنا مددگار بناتا (18:51)

 

printer15

جن سے عاصیوں کو یہ آس ہے کہ

 محشر میں شفاعت کر کے یا کسی اور

 طرح سے خدا سے بچائیں گے

وہ عاصیوں کو جواب نہ د یں گے

 

اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تمہارا یہ خیال تھا (کہ ہمیں خدا سے بچا لیں گے) بلاﺅ تو وہ اُن کو بلائیں گے مگر وہ اُن کو کچھ جواب نہ دیں گے اور ہم اُن کے درمیان ایک ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے (کہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے) (18:52) اور (مشرک) گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اِس میں پڑنے والے ہیں ۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے (18:53)

 

printer15

وہ ظالم ترین لوگ جن کو

 آیات سے سمجھایا گیا

 

اور اُس سے بڑا ظالم کون کہ جس کواُس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اُس سے منہ پھیر لیا اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اُس کو بھول گیا؟ (یہی وجہ ہے کہ) ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل (پیدا کر دیا ہے کہ سُن نہ سکیں) اور اگر تم اُن کو رستے کی طرف بلاﺅ تو وہ اب کبھی رستے کی طرف نہ آئیں گے (18:57) اور تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے اگر وہ اُن کے کرتُوتوں پر اُن کو پکڑنے لگے تو اُن پر فوری عذاب بھیج دے مگر اُن کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے (18:58) اور بستیاں جو ویران پڑی ہیں جب اُنہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے اُن کو تباہ کر دیا اوراُن کی تباہی کیلئے ایک وقت مقرر کر دیا گیا تھا (18:59)

 

printer15

کہیں آپ صالحین کو اولیاء اللہ

ماننے والے تو نہیں ہیں؟

 

 کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے عبادت گزار بندوں (صالحین) کو ہمارے علاوہ اپنے اولیاء بنائیں گے؟ (تو بنائیں) ہم نے(ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی مہمانی تیار کر رکھی ہے(18:102)

 

printer15

یوم الدین کی مشکل کو یومِ شفاعت

 کی آسانی خیال کرنے والے جن کی

 ہرکوشش دنیا ہی میں برباد ہوگئی

 

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں کہ جو اعمال کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں (18:103) وہ لوگ جن کی سعی دُنیا میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں (18:104)  یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اورخدا کے حضور پیشی سے انکار کیا۔ تو اُن کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن اُن کے لئے کچھ  بھی وزن قائم نہیں کریں گے (18:105)  یہ اُن کی سزا ہے ( یعنی جہنم) اس لئے کہ اُنہوں نے (آیات سے) کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغام پہنچانے (اور گنہگاروں کو جہنم کی خبر سنانے) والوں کی ہنسی (یہ کہہ کر) اُڑائی (کہ یہی تو گنہگاروں کو خدا سے بچانے والے ہیں) (18:106) جو لوگ ایمان لائے اور صالح عمل کئے اُن کے لئے بہشت کے باغوں کی مہمانی ہوگی (18:107) ہمیشہ اُن میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے (18:108)

 

printer15

مشرک خدا کی حمد و ستائش نہیں کرتے

 حالانکہ خدا کی آیتوں کی کوئی انتہا نہیں ہے

 

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے( لکھنے کے) لئے سیاہی ہو جائے تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ایسا ہی اور سمندر اس کی مدد کو لایا جائے  (18:109)

 

printer15

اصل دین

اصل دین یا نجات کی راہ انبیاء کی پیروی

 خدا کے حضور پیشی پر ایمان اور

 اچھے کام اور ترکِ شرک ہے

 

کہہ دو کہ میں تمہاری ہی طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف خدا کے ہاں سے وحی آتی ہے کہ تمہارا سب لوگوں کا معبود (وہی) ایک اکیلا معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار کے حضور (کامیاب ہونے کے لئے) پیش ہونے کی اُمید رکھے اُسے چاہیے کہ اچھے کام کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی (فرد و شے) کو پروردگار کا شریک نہ بنائے(18:110)

 

printer15

وارث صرف اور صرف اللہ ہے اور

 کوئی انسان خدا نہیں ہے کہ

 اُسے بھی وارث مانا جا سکے

 

 ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں اُن کے وارث ہیں ۔ اور ہمارے حضور ہی اُن کو پیش ہونا ہوگا (19:40)

 

printer15

کوئی فرشتہ اپنی مرضی سے

کسی پیغامبرکے پاس نہیں آتا تھا

اور یہ کہ خدا کو خیال نہیں آتے

 خیال تو بھولنے والی مخلوق کو آتے ہیں

 

اور (فرشتوں نے کہا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سِوا اُتر نہیں سکتے جو کچھ  ہمارے آگے ہے اور جو کچھ  پیچھے ہے اور جو اِن کے درمیان ہے سب اُسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے (19:64)

 

printer15

خدا کے سِوا مدد گار بنانا

 

اور ان لوگوں نے خدا کے علاوہ اور معبود بنا لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجبِ قوت و) مدد ہوں (19:81)  ہرگز نہیں۔ وہ ( آقا و مولا ، کارساز و مددگار، مشکل کشاء و ضامن اور واسطے وسیلے مانے جانے والے حشر میں) اُن کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے (19:82)

 

printer15

توحید پرمبنی آیات سن کر

 غصے میں آجانے والے

 

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو (آیات کے منکر) کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ اُن کو غصہ دلاتے رہتے ہیں؟ (19:83)  تو تم اُن پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو اور ہم تو اُن کو (عذاب دینے کے لئے اُن کے اعمال) شمار کررہے ہیں (19:84) جس روز پرہیزگاروں کو خدا کے حضور (بطور) مہمان جمع کیا جائے گا (19:85) اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک کر لے جایا جائے گا (تو وہاں یہ عذاب کی مار کے دوران پیپ پئیں گے اور تھوہر کھائیں گے) (19:86) 

 

printer15

پیشی کے وقت بندوں کی حیثیت اور

 مبالغہ کرنے والے لوگوں کی قیاس آرائیاں

 

تمام کے تمام (لوگ) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب (حساب کے لئے) خدا کے حضور ( بِلا تمیز خدا کے عاجز) بندوں کے طور پر پیش ہوں گے (19:93)

 

printer15

کوئی کسی کا ساتھ نہ دے گا اور

نہ کوئی کسی کے کام آئے گا

 

اُس نے ان (سب بندوں) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا ہے اور(ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے (19:94) اور سب قیامت کے دن خدا کے حضور اکیلے اکیلے جوابدہ ہوں گے(19:95)

 

printer15

خدا کی محبت خدا کی رحمت ہے

 

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے خدا اُن کی محبت (اپنی مخلوق میں) پیدا کردے گا (19:96)

 

printer15

عالمین مخلوق میں سے کسی کو راضی

 یا خوش کرنے کے لئے نہیں بنائے گئے

بلکہ عالمین، عالمین والوں کے لئے بنائے گئے ہیں

 

وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے انواع واقسام کی روئیدگیاں پیدا کیں (20:53) (کہ خود بھی) کھاﺅ اور اپنے چارپایوں کو بھی چراﺅ ۔ بے شک اِن (باتوں) میں عقل والوں کے لئے (بہت سی) آیات ہیں  (20:54)  اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اِسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے (20:55) اور ہم نے فرعون کو اپنی تمام آیات دکھائیں مگر وہ تکذیب اورانکار ہی کرتا رہا (20:56)

 

printer15

اِس آیت سے وہ ہولناک سچ ظاہر ہے کہ

جس کو شیطان نے لوگوں کو فریب دینے

 کے لئے اپنی طرف سے

نجات دلانے والے اور شفاعت فرمانے

 والے خدا کے شریک و عزیز بنا کر

 اورگنہگاروں کو نجات کی اُمید

 دلا کر چھپا رکھا ہے

 

جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اُس کے لئے (آگے صرف اور صرف) جہنم ہے جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا (20:74)

 

printer15

اور جو گناہوں سے بچا اور

خاص و خالص ہوا

وہ مُراد کو پہنچ گیا

 

 اور جو اس کے حضور ایمان دار ہو کر پیش ہوا اور عمل بھی صالح کئے تو ایسے لوگوں کے لئے اُونچے اُونچے درجے ہیں (20:75) (یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو (شرک چھوڑ کر اور صالح اعمال کر کے) خاص و خالص ہوا  (20:76)

 

printer15

رسول (بن کر ظاہر ہونے والے)

کے پَیر کا نشان یعنی شیطان کی چال

 

اُس (سامری) نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اَوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے پیغامبر کے پَیر کے نشان سے ایک مُٹھی بھر لی ۔ پھر اِس کو (صورت میں) ڈھال دیا اور مجھے میرے جی نے (یہ شرک کا کام) اچھا بتایا (20:96)

 

printer15

خدا گواہوں اور مخبروں

کا محتاج نہیں ہے

 

(تو اے لوگو!) تمہارا معبود (نفع و نقصان پہنچانے والا) خدا ہی ہے جس کے سِوا کوئی معبود (نفع و نقصان پہنچانے والا) نہیں اُس کا علم ہر چیز پر محیط ہے (20:98)

 

printer15

کوئی موت سے بچا ہوا ہمارے درمیان

 نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پیغامبر

 ہمیشہ رہنے والا ہوا ہے

 

 اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے ۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں اُن سے پُوچھ لو (21:7) اور ہم نے اُن کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے (21:8) پھر ہم نے اُن کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کر دیا تو اُن کو اور (جو لوگ اُن کے ساتھ  تھے اُن میں سے) جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا (21:9)

 

printer15

دعوتِ توحید

الہامی کتابوں میں توحید کی

 حفاظت سدا کی گئی ہے

 

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اَور معبود بنا لئے ہیں؟ کہہ دو کہ (اِس بات پر کتاب سے) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری کتاب قرآن اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب (تورات) ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغام پہنچانے والے) ہوئے ہیں اُن کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) اُن میں اکثر حق بات (محکم آیات) کو نہیں جانتے اور اِس لئے اِس (توحید) سے منہ پھیر لیتے ہیں ( 21:24)

 

printer15

تمام رسولوں کا پیغام توحید ہے

 

اور جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے اُن کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سِوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو (21:25) اور (حکمِ اوّل سے بے خبر) کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے خدا (مخلوق نہیں ہے کہ کسی کا باپ ہو یا کوئی اُس کا بیٹا یا بیٹی یا بیوی یا ہم نسل یا خدا کا کوئی باپ ہو وہ خالقِ مطلق ہے اکیلا اور ہر عیب سے) پاک ہے (کوئی بھی شے اُس جیسی نہیں) بلکہ تمام (خدا کے حضور عاجزی کرنے والے) انسان خدا کے پسندیدہ غلام ہیں  (21:26) خدا کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور خدا کے حکم پر عمل کرتے ہیں (21:27)  جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور جو پیچھے ہوچکا ہے وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے ہاں کسی کے لئے) رحم کی اپیل نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جسے خدا نے (پہلے ہی سے صالح اعمال کے سبب) پسند کر لیا ہو اور وہ اُس کی ہیبت سے (ہر آن) ڈرتے رہتے ہیں  (21:28)

 

printer15

خدا کے ہاں کسی شرک کرنے والے

 کی معافی نہیں ہے چاہے کوئی ہو

 

اور جو شخص اُن (پیغامبروں) میں سے یہ کہے کہ خدا کے سِوا میں (بھی لائقِ حمد و عاجزی خدا کے برابر) معبود (نفع و نقصان پہنچانے والا) ہوں تو اُسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں (21:29)

 

printer15

وہ ابتدا کرنے والا خالق و ناظم و پاسدارِ کائنات

جو خدا کہلانے کا حقدار ہے، میرا رَبّ ہے

 

 کیا کافروں نے معلوم نہیں کر لیا کہ آسمان اور زمین (گیسوں کا مجموعہ تھے اور آپس میں) دونوں ملے ہوئے تھے؟ تو ہم نے(خلاء اور وجود کو) جُدا جُدا کر دیا اور تمام جاندار چیزیں ہم نے (ہر طرح کی استطاعت و قدرت کے ساتھ) پانی (یعنی نہ گیس نہ مادہ بلکہ دونوں کے درمیان عصر کے حال اور حالت پر مبنی مائع) سے بنائیں پھر (جاننے کے بعد بھی) یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟ (21:30) اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کی آمدورفت کی چیزوں اور طاقت و قوت کے لئے کئے جانے والے تجربوں اور دھماکوں) سے ہلنے ( اور ٹلنے) نہ لگے اور اِس میں (اپنے ہاں سے) کشادہ راستے بنا دیئے تاکہ لوگ اُن پر چلیں (21:31) اور (نیلے اوزون سے) آسمان کو (خلائی آفات سے) محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ اِن آیات سے منہ پھیر رہے ہیں (21:32) اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان (خلاﺅں کے سمندر) میں (اس طرح منظّم حساب سے جھولتے ہوئے چلتے ہیں گویا ترکیب و ترتیب سے) تیر رہے ہیں (21:33)

 

printer15

پیغامبر علیہ السلام سے پہلے پیغامبر بھی

 تو ہمیشہ کے لئے نہیں تھے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ

کوئی ہمیشہ کے لئے نہیں ہے

اِس لئے کہ کوئی خدا کے سوا

خدا نہیں ہے اور ہر شے فانی ہے

 

اور ہم نے تم سے پہلے بھی کسی بشر کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ بھلا اگر تم مر جاﺅ تو کیا یہ (بدخواہ) لوگ ہمیشہ رہیں گے؟ (21:34)

 

printer15

ہر سانس لینے والے کے لئے موت ہے

 

تمام سانس لینے والوں کو مردہ ہو جانا ہے ۔ اور ہم تم لوگوں کو سختی اور آسودگی میں امتحان کے طور پر مبتلا کرتے ہیں ۔ اور تم ہمارے ہی حضور پیش ہو گے (21:35)

 

printer15

غیر حقیقی مددگاروں کی حقیقت

اور خود خدا کا توحید سمجھانا

 

کیا میرے سِوا ان کے اور معبود (کارساز و مددگار) ہیں کہ ان کو(مشکلات و مصائب سے) بچا سکیں؟ وہ (اِن کی مدد کیا کریں گے وہ تو وقت آنے پر) اپنی مدد آپ تک نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی ہمارے ہاں سے پناہ  دیئے جائیں گے (21:43) بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو خوشحال کرتے رہے یہاں تک کہ (آسودگی میں) اُن کی عمریں بسر ہو گئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کے فاصلوں کو سفر کرنے والوں کے لئے سمیٹتے (اور پھیلاتے) چلے جاتے ہیں؟ تو کیا یہ (بے بس ہونے کے باوجود معاملات) پر غالب آنے والے ہیں؟ (21:44) کہہ دو کہ میں تم کو خدا کے حکم کے مطابق نصیحت کرتا ہوں اور بہروں کو جب نصیحت کی جائے تو وہ آواز کو سنتے ہی نہیں (21:45) اور اگر اُن کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا بھی عذاب پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بے شک گنہگار تھے (21:46)

 

printer15

جب انصاف کی ترازو میزانِ عظیم

بلند ہوگی تو رائی رائی کے حساب

سے کون بچے گا اور کون بچائے گا؟

 

اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اُس کو (حساب کے لئے) لا موجود کریں گے اور ہم (کسی کے مشورے اور رائے کے بغیر) حساب کرنے کو کافی ہیں (21:47)

 

printer15

مشرکوں کو سمجھانے کا ابراہیمی طریقہ ۔

غیرِ خدا نہ نفع دے سکتا ہے

 نہ نقصان پہنچا سکتا ہے

 

(ابراہیم نے) کہا کہ پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نہ نقصان پہنچا سکیں؟ (اور نہ کسی سوال کا جواب دیں) ( 21:66)

 

printer15

مشرکوں پر لعنت

 

لعنت ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سِوا پوجتے ہو اُن پر۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ (21:67) (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (ابراہیم سے اپنے معبودوں کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہی ہے تواِس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو ( 21:68)

 

printer15

اے آگ ٹھنڈی ہو جا !

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ سرد ہو جا اور ابراہیم کے لئے سلامتی (بن جا) (21:69) اُن لوگوں نے بُرا تو چاہا تھا مگر ہم نے اُنہی کو نقصان میں ڈال دیا ( 21:70)

 

printer15

پھر عذابِ الہٰی آنے سے پہلے

ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام

 دونوں ہجرت کر گئے

 

اور ابراہیم اور لُوط کو اُس سَر زمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی (21:71)

 

printer15

یہ حکمِ اوّل و آخر ہے

ایک اکیلے رَبِّ عظیم کے لئے سب ایک ہو جاﺅ

 

(اے اقوامِ عالم دین و مذہب کے حوالے سے) یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں (ایک اکیلا خدا) تمہارا پروردگار ہوں تو(شرک کئے بغیرصرف اور صرف) میری ہی عبادت کیا کرو (21:92)

 

printer15

قیامت آ رہی ہے

یہ وقت قیامت کی آخری نشانی ہے

 

اور یہ لوگ (ایک ہی جماعت ہونے کے باوجود) اپنے معاملے میں باہم فرقہ فرقہ ہو گئے ہیں (مگر) سب ہمارے حضور پیش ہونے والے ہیں (21:93) اِن میں سے جو اچھے کام کرے گا اور صرف ایک اکیلے خدا پر ایمان رکھتا ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی (چاہے کوئی ہو) اور ہم اُس کے لئے (صلہ اور انعام دونوں) لکھ رہے ہیں (21:94) اور جس بستی (والوں) کو ہم نے (اُن کے شرک اور گناہوں کے سبب) ہلاکت میں ڈال دیا محال ہے کہ (متوجہ ہوں) وہ متوجہ نہیں ہوں گے (21:95) یہاں تک کہ یاجوج (متحدہ بادشاہت کے لوگوں) اورماجوج (متحدہ ریاستوں کے لوگوں) کو (مَن مانی کرنے کے لئے) کُھلا چھوڑ دیا جائے اور وہ ہر (فتنے وفساد اور خرابی و برائی کی) بلندی کو (چُھونے کی کوشش میں رات دن) دوڑ رہے ہوں (21:96) اور قیامت کا سچا وعدہ قریب آ جائے تو اچانک جاہل انکار کرنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم ہی تھے (21:97)

 

printer15

دوزخ کا ایندھن

 

(اُس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سِوا عبادت (مدد مانگنے کے لئے تعریف و عاجزی) کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے (اور) تم (سب) اُس (جہنم کے وبال و عذاب) میں داخل ہو کر رہو گے (21:98) اگر یہ (بُت اور بُتوں جیسی چیزیں اور بتوں جیسے مزار اور روضے اور خدا  بنے ہوئے) لوگ (درحقیقت) معبود (مددگارو کارساز) ہوتے تو اِس جہنم میں داخل نہ ہوتے مگر سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے (21:99) وہاں اُن کو چیخنا اور چِلّانا ہو گا اور اُس میں (دوزخیوں کے شور کے سبب) کچھ نہ سُن سکیں گے (21:100) جن لوگوں کے لئے ہمارے ہاں سے پہلے (توحید پر ایمان اور شرک سے دور رہنے اور اچھے کاموں کے سبب) بھلائی مقرر ہوچکی ہے (صرف) وہ اس سے دُور رکھے جائیں گے (21:101) (یہا ں تک کہ) اس کی آہٹ تک نہیں سُنیں گے اور جیسی اُن کا جی چاہے گا ویسی (خوشی و آرام) میں ہمیشہ رہیں گے (21:102) اُن کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا ۔ اور فرشتے اُن کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (اور جس کا تم دل ہی دل میں انتظار کرتے تھے اور جس سے پیشی کے سبب اور جہنم کے عذاب کی شدت کی وجہ سے روز و شب سخت ڈرتے تھے) (21:103)

 

printer15

اللہ باخبر ہے ۔ اللہ کو خبریں پہنچانے پر

انسان یا فرشتے مقرر نہیں ہیں ۔

اللہ کو دل ہی دل میں عاجزی سے یاد

کیا جاسکتا ہے اور یہ سچ ہے کہ

 اللہ کو بِلا واسطہ و بِلا وسیلہ پکارنا

 ہی درست پکارنا ہے

 

جو بات پُکار کر کی جائے وہ اِسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اُس سے بھی واقف ہے (21:110) اور (کہو) میں نہیں جانتا شاید (یہ سہولت) تمہارے لئے امتحان ہو اور ایک مدت  تک  فائدہ  (21:111)

 

printer15

ایسا مولا بھی بُرا اور

ایسا محبوب بھی بُرا

 

یہ (انسانوں کا غلام) خدا کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتا ہے جو اُسے نہ نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ  دے سکے یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے (22:12) (بلکہ) اللہ کو چھوڑ کر ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدے سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا مولا بھی بُرا اور ایسا محبوب بھی بُرا (22:13) جو لوگ (ایک اکیلے خدا پر) ایمان لائے اور (آیات کے مطابق) بھلے عمل کرتے رہے خدا اُن کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ۔ کچھ شک نہیں خدا (کسی کی مرضی کا محتاج نہیں ہے اور) جو چاہتا ہے کرتا ہے ( 22:14)

 

printer15

سجدہ چاہے کسی بھی قسم کا ہو

غیرِ خدا کو نہیں کیا جا سکتا

 

کیا تم نے (معلوم نہیں کیا یا) نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور (تمام کے تمام) ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چارپائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں (جو سجدہ نہیں کرتے اور تکبر اور سرکشی کرنے اور جہالت ہی میں رہنے کی ضد کے سبب لعنتی اور مردود  قرار پا چکے ہیں اور) جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اُس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے بے شک خدا (کی مرضی میں کسی غیر اللہ کی مرضی شریک نہیں ہو سکتی اور اللہ اپنے حکم سے) جو چاہتا ہے کرتا ہے (22:18)

 

printer15

صرف ایک اکیلے خدا کے ہو کر رہو

 

صرف ایک اکیلے خدا کے ہو کر (رہو) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا کر اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ (کسی بھی طرح سے) شریک مقرر کرے تو وہ (بے مراد) گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اُسے (گوشت خور) پرندے اُچک لے جائیں یا ہوا کسی دُور دراز مقام پر اُڑا کر (اور بھٹکا کر) دفع  دور کر کے پھینک دے  (22:31)

 

printer15

جن عبادت خانوں میں خالص خدا کا ذ کر

 کیا جاتا ہے وہ اور خالص خدا کے بندے

سدا عذاب سے محفوظ رکھے جاتے ہیں

 

(مہاجر) وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (اُنہوں نے کچھ  قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار (ایک اکیلا) خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے (کی دشمنی) سے ہٹاتا نہ رہتا تو (راہبوں) کے عبادت خانے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور ( یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں (خالص اور خصوصاً) خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے گرائی جا چکی ہوتیں۔ جو شخص (خدا کی عزّت اور خالص دین کی دعوت کی خاطر اور حمایت کی صورت) خدا کی مدد کرتا ہے تو خدا اُس کی (ہر کام میں) ضرور مدد کرتا ہے۔ بے شک خدا طاقتور (اور) غالب ہے  (22:40)

printer15

خدا کا شریک سمجھ کر خدا کے سوا

 جس کسی کو بھی پکارا جائے وہ باطل ہے

 

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے (اُسی کے حکم سے ہر بیماری کی شفاﺀ، ہر مشکل کا حل اور ہر پریشانی سے نجات ہے) اور خدا تو سُننے والا دیکھنے والا ہے (22:61) یہ اس لئے بھی کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (لوگ) خدا کے سِوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے(چاہے کچھ بھی ہو اور چاہے کوئی بھی ہو) اور یہ اس لئے کہ خدا ہی العلی و الکبیر ہے (22:62)

 

printer15

احکامِ شریعت میں بحث نہ کرو

 اور لوگوں کو توحید کی طرف بلاﺅ

 

 ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے شریعت مقرر کر دی ہے جس پر وہ چلتے ہیں۔ تو یہ لوگ تم سے اس امر (یعنی احکامِ شریعت) میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی (توحید کی) طرف بُلاتے رہو بےشک تم سیدھے رستے پر ہو ( 22:67) اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا اُن سے خوب واقف ہے  (22:68)  جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا تم میں (اور ہم میں) قیامت کے روز اُن کا فیصلہ کر دے گا (پس مجھ سے تو تم توحید ہی کی بات کرو)  (22:69)

 

printer15

جو کوئی بھی ہوں آیات سُن کر برا

 منانے والے تمام لوگ جہنمی ہیں

 

اور جب اُن کو ہماری (فیصلہ کُن) آیتیں پڑھ کر سُنائی جاتی ہیں تو (اُن کی شکل بِگڑ جاتی ہے اور) تم اُن کے چہروں پر صاف طور پر ناراضگی (ونفرت کے اثرات) دیکھتے ہو ۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ اُن کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اُن پر حملہ کر دیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بُری چیز بتاﺅں؟ وہ (دوزخ کی) آگ ہے جس کا خدا نے اپنے منکروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بُرا ٹھکانہ ہے (22:72)

 

printer15

توحید کی سرتاج آیت

تمام ذہنوں پر دستک دی جاتی ہے۔

 تمام فرشتے، تمام جنّات، تمام انبیاﺀ، تمام رسول،

تمام لوگوں کے امام یا اولیاء یا غیر حقیقی معبود،

تمام ڈاکٹر، تمام سائنسدان، تمام کیمیادان، تمام ماہرینِ علوم،

تمام جادوگر اور تمام کی تمام مخلوقات جو زمین

اور آسمان میں ہیں مل کر بھی ایک مکھی تک نہیں بنا سکتے

تو اِن کا کارساز ومددگار ہونا کیسا؟

 

 لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے (ہوش کرو اور) اِسے (پوری طرح) غور سے سنو کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سِوا (اپنی مشکلات کے حل اور خواہشوں کی خاطر) پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے۔ اگرچہ اس کے لئے سب جمع (یا اکٹھے) ہو جائیں اور اگر اُن سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اُسے اُس سے چھڑا تک نہیں سکتے طالب و مطلوب ( یعنی پکارنے والے اور وہ جن کو پکارا جاتا ہے دونوں) گئے گزرے (لاغر و ناکارہ اور بے بس) ہیں (22:73)

 

printer15

قادرِ مطلق خدا کو اپنا پیغام پہنچانے کے لئے

کسی انسان یا فرشتے کی کمی یا محتاجی نہیں ہے

 

خدا جب چاہے فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کر لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ بے شک خدا سُننے والا (اور) دیکھنے والا ہے (22:75) جو اُن کے آگے ہے اور جو اُن کے پیچھے ہے وہ اِس سے واقف ہے اور سب کاموں کا رجوع (انجام کے لئے صرف اور صرف) خدا ہی کے حضور ہے (22:76)

 

printer15

صلوٰة  قائم کرنے کا حکم رکوع، سجدے، عبادت

اور عملِ صالح کی ادائیگی کا واضح حکم ہے

 

مومنو! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور صالح عمل کرو تاکہ  فلاح  پاﺅ ( 22:77)

 

printer15

باپ ابراہیم علیہ السلام اور اسلام

ایک اکیلے اللہ کی فرمانبرداری

محمد و آلِ محمد علیہ السلام یعنی تمام اُمتِ مسلمہ

کے لئے باپ ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔

 

اور خدا (کی راہ) میں شدید کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر اپنے دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (ایک اکیلے خدا کی فرمانبرداری پسند کیا) ہے اُسی نے (اِس سے) پہلے (زمانوں میں نازل کی جانے والی کتابوں میں) تمہارا نام خدا کے فرمانبردار رکھا تھا اور اِس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو خدا کی راہ میں سخت کوشش کرو) تاکہ پیغام پہنچانے والے تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد ہو اور عبادت اور اطاعت قائم کرو اور زکوٰة (حقدار کو اُس کا حق اور احسان کے طور پر لوگوں کو اپنا مال) ادا  کرو اور خدا کی ہدایت کو پکڑے رہو ۔ وہی تمہارا مولا ہے اور وہی خوب مولا اور خوب مدد گار ہے (22:78)

 

printer15

خدا سب کا پروردگار ہے اور

 تمام کی تمام اقوام ایک ہی اُمّت ہیں

 

اور (اے انسانو!) یہ تمہاری قوم (حقیقت میں) ایک ہی قوم ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ  ہی سے ڈرو (23:52)  پھر اُنہوں نے آپس میں اپنے اپنے حکم پر عمل کو متفرق کر کے (خود کو) جُدا جُدا کر لیا پس جو (اختلافی) چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے (چمٹ کر رہ  گیا ہے اور) خوش ہو رہا ہے (23:53)  تو اُن (اختلاف کرنے والوں) کو ایک مدت تک ان کی غفلت ہی میں رہنے دو (23:54) کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دُنیا میں اُن کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں ( 23:55) (تو اس سے) اُن کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں (23:56) جو لوگ اپنے پروردگار کے عذاب کے خوف سے ڈرتے ہیں (23:57) اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں (23:58) اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کرتے (23:59) اور جو دے سکتے ہیں (خدا کی راہ میں) دیتے ہیں اور اُن کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ اُن کو اپنے پروردگار کے حضور (حساب دینے کے لئے) پیش ہونا ہے (23:60) تو یہی لوگ اچھے کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ایک دوسرے سے (بھلائی کرنے میں) آگے نکل جاتے ہیں (23:61)

 

printer15

خدا کے غیروں کے آگے عاجزی و تعریف

 کر کے انہیں نفع حاصل کرنے اور

نقصان سے بچنے کے لئے پکارنے والے

 

اور جو شخص خدا کے ساتھ اَور معبود (خود بنائے ہوئے یا لوگوں کے بنائے ہوئے نفع یا نقصان پہنچانے والے) کو پکارتا ہے جس کی اُس کے پاس کوئی سند (خدا کے کلام سے دلیل) نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہو گا۔ کچھ شک نہیں کہ (آیات  کا) انکار کرنے والے نجات کی صورت کامیابی نہیں پائیں گے (23:117)

 

printer15

ہدایت یاب ہونے کے لئے بھی ہر انسان

خدا ہی کا محتاج ہے چاہے کوئی ہو

 

مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بے حیائی (کی باتیں) اور بُرے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اُس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں خالص نہ ہوسکتا مگر خدا جس کو چاہتا ہے(اپنی آیات کے ذریعے) خالص کر دیتا ہے اور خدا سُننے والا (اور) جاننے والا ہے (24:21)

 

printer15

مشرک کا ایمان چمکتی ریت ہے

 اور سمجھ سراب (شیطان کا بہکاوا) ہے

 

 اور جن لوگوں نے ایک اکیلے خدا کے ساتھ (شرک کر کے) کفر کیا اُن کے اعمال (کی مثال ایسی ہے ) جیسے میدان میں (چمکتی) ریت کہ پیاسا اُسے پانی سمجھے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس جائے تو وہاں کچھ بھی نہ دیکھے اور خدا ہی کو اپنے پاس پائے تو وہ اُسے اُس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے (24:39)

 

printer15

نور کا مالک صرف خدا ہے

باطل کے اندھیرے ہی اندھیرے اور خدا کا نورِ ہدایت

 

یا (اُن کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے گہرے سمندر میں اندھیرے جن پر لہر چڑھی آتی ہو (اور) اُس کے اُوپر اَور لہر (آ رہی ہو اور) اُس کے اُوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں۔ ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب وہ اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اُس کو (کہیں سے بھی) روشنی نہیں (مل سکتی) (24:40)

 

printer15

پیشی صرف خدا کے حضور ہے

 

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کے حضور(ہر ایک کو) پیش ہونا ہے (24:42)

 

printer15

نفع یا نقصان پہنچانے والا معبود

صرف اور صرف ایک اکیلا خدا ہے

 

اور (لوگوں نے) اُس (حقیقی معبود) کے سوا اور (غیر حقیقی) معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کر سکتے اور خود پیدا کئے گئے (عاجز) ہیں اور (کسی کو نفع دینا یا نقصان پہنچانا تو دُور کی بات ہے) وہ تو اپنے نفع اور نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے اور (کیا کسی کو بچانا اور ہمیشہ کام آنا) وہ نہ تو اپنے مرنے کا اختیار رکھتے ہیں نہ جینے کا اور نہ (مر کر) اُٹھ کھڑے ہونے کا (اُن کو اختیار دیا گیا ہے) (25:3)

 

printer15

غیر حقیقی کارسازوں اور مددگاروں کا پہچاننے سے انکار

 

اور جس دن (خدا) اِن کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا (عاجزی اور تعریف اور عرض و نیاز کر کے) پوجتے ہیں، جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہو گئے تھے؟ (25:17) وہ کہیں گے کہ تُو پاک ہے ہمیں یہ بات کسی بھی طرح مناسب نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو اولیاء (کارساز و مددگار) بناتے لیکن تُو نے ہی اِن کو اور اِن کے باپ دادا کو برتنے کے لئے نعمتیں دیں۔ یہاں تک کہ وہ (عیش و آرام میں پڑ کر) تیری یاد کو بھول گئے اور یہ (غرور کے سبب بھی) ہلاک ہونے والے لوگ تھے (25:18) تو (انسان پرستو!) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو نہ (کسی سے) مدد  لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اُس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے (25:19)

 

printer15

سب انسان تھے

 

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغام پہنچانے والے بھیجے ہیں سب کھانا کھانے والے (انسان) تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے امتحان کا ذریعہ بنایا ہے۔ تو کیا تم صبر کرو گے؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے (25:20) اور جو لوگ ہم سے ملنے کی اُمید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہ کئے گئے؟ (کہ دیکھ کر یقین کرتے) یا ہم آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں (تو ایمان لائیں)۔ یہ اپنے خیال میں (علمی) بڑائی رکھتے ہیں اور (اِسی بناء پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں (25:21) جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اُس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہو گی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کر دیئے) جاﺅ (25:22) اور جو اُنہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم اُن کی طرف متوجّہ ہوں گے تو اُن کو اُڑتی خاک کر دیں گے (25:23) اُس دن اہلِ جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور سُکھ  چین کا مقام بھی خوب ہوگا  (25:24)

 

printer15

حشر کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور پیغامبر علیہ السّلام  شفاعت فرمانے کی بجائے قوم کی شکایت پیش کریں گے

 

اور (اُس دن) پیغامبر کہیں گے کہ اے  پروردگار میری قوم نے اِس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (جب کہ میں نے اپنی قوم کو اِس پر سختی سے عمل کرنے کی صاف صاف نصیحت اور وصیّت کی تھی) (25:30)

 

printer15

احسن الحدیث قرآن ہی قرآن کی تفسیر ہے

 اور احسن الحدیث احادیث

 بھی اِس میں شامل ہیں

 

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اِس کا معقول اور خوب (مکمل و کامل) تفسیر کے ساتھ  جواب بھیج  دیتے ہیں (25:33) اور سب کے (سمجھانے کے) لئے ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کو تہس نہس کر دیا (25:39)

 

printer15

خواہشوں یا اپنی مرضی کو

 معبود بنانے والے مشرک

 

کیا تم نے اُس شخص کو دیکھا ہے جس نے خواہشِ نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اُس پر نگہبان ہو سکتے ہو؟ (25:43) یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (اپنی خواہشوں پر چلنے کے اعتبار سے) زیادہ  بے راہ ہیں  (25:44)

 

printer15

قرآن کو ادھورا سمجھنے اور قرآن کی

 اہمیت کو کم کرنے والوں کے لئے مقامِ عبرت۔

قرآن تمام طریقوں سے سمجھایا گیا

 

اور ہم نے اس (پیغام کی آیتوں) کو طرح طرح سے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا کچھ نہ کیا (25:50)

 

printer15

سب کو خدا کا پیغام دو

 

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے (25:51) تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور اُن کو سمجھانے کے لئے اِس قرآن کے حکم کے مطابق  بڑے شدومد سے (پیغام  دینے کی) پوری کوشش کرو (25:52)

 

printer15

زور و شور سے توحید کی مخالفت

 اور اپنے بنائے ہوئے غیر حقیقی

مددگاروں اور کارسازوں کی

حمایت کرنے والے

 

اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں جو نہ اُن کو فائدہ پہنچا سکے نہ نقصان اور (خدا کا مخالف) کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے (25:55) اور ہم نے تم کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سُنانے کو بھیجا ہے (25:56) کہہ دو کہ میں تم سے اِس (کام) کی اُجرت نہیں مانگتا ۔ ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے حضور پیشی کا رستہ اختیار کر لے (25:57)

 

printer15

زندگی اور موت کے خالق ایک

اکیلے رحمٰن پر بھروسا رکھو

 

 اور اُس ( رَبِّ عظیم) پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اُس کی تعریف کے ساتھ  تسبیح کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کو کافی ہے (25:58)  جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اِن دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر اِن پرعرش (قانونِ مشیّت و قدرت) قائم کیا وہ جس کا نام رحمٰن (تمام جہانوں اور تمام مخلوقات پر بے حد رحم و رحمت کرنے والا بڑا مہربان) ہے تو (اگر تم چاہو تو) اس کی بابت (حقیقت) کسی باخبر سے (جو صاحبِ علم و حکمت ہو اور نورِ ہدایت اور کتاب کا علم رکھتا ہو) دریافت کر لو  (25:59)

 

printer15

رحمٰن کے سوا رحمٰن ماننے والے

 جو ایک اکیلے رحمٰن کو عالمین پر

رحمت کرنے والا رَبّ  ماننے

 سے انکار کر رہے ہیں

 

اور جب ان (خدا کے باغیوں) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن (ایک اکیلے عالمین پر رحمت کرنے والے) کو سجدہ  کرو تو کہتے ہیں کہ (تمام جہانوں اور تمام مخلوقات پر رحم و رحمت کرنے والا) رحمٰن کیا؟ کیا جس (رحمٰن) کی خاطر تم  ہم سے (اظہارِ تسلیم کے لئے) سجدے کو کہتے ہو ہم (اپنے انسان رحمٰن کو چھوڑ کر) اُس کے حضور (اظہارِ تسلیم کے لئے) سجدہ کریں؟ اور اس سے (وہ  اور) بدکتے ہیں (مگر اہلِ ایمان اِس مقام پر ایک اکیلے رحمٰن کے حضور اظہارِ تسلیم کے لئے سجدہ ضرور کرتے ہیں اور جو تمام کے تمام جہانوں اور تمام کی تمام مخلوقات پر رحم کرنے والے رحمٰن کے رحم کے منکر ہیں اُن میں نہ تو کوئی لچک پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وہ سجدہ کرتے ہیں) (25:60)

 

printer15

لوگوں کو سلامتی و امن کا درس دینا

 

اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ اُن سے (مخالفانہ اور جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو اُن کا جواب سلامتی کا درس ہوتا ہے (25:63)

 

printer15

قرآنِ حکیم خدا کی رحمت کی طرف بلانے والا۔

 خدا کی توحید کی عظمت و شان بتانے والا

 اور بتوں اور انسانوں کی پوجا پاٹ یعنی

 شرک سے روکنے والا عربی کلام ہے

مگر اِسے خواہشوں کی پیروی کرنے والوں نے

ترجمے اور تفسیر کے ذریعے اپنے خیال کے مطابق

کچھ کا کچھ بنا رکھا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ غور و فکر سے کام  نہ لینے کو

خدا  نے شدید خطرہ بتایا ہے اور سمجھایا ہے کہ

سمجھنے اور سمجھانے میں توحید اور

دین کے سلسلے اورمعاملے میں شدید غلطی

بھی ہو سکتی ہے۔

(خدا کی آیات کے معاملے میں محتاط لوگ)

 

اور وہ (ہدایت یاب لوگ) کہ جب اُن کو پروردگار کی آیات سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گِرتے (بلکہ اللہ کے کلام اور دین کی سمجھ کے سبب غورو فکر سے کام لیتے ہیں) (25:73)

 

printer15

مُتقین کا امام ہمیشہ خدا بناتا ہے

 

اور وہ جو (خدا سے) دُعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا (25:74)  اِن (صفات کے) لوگوں کو اُن کے صبر کے بدلے اُونچے اُونچے محل دیئے جائیں گے اور وہاں فرشتے اُن سے دُعا و سلام کے ساتھ  ملاقات کریں گے (25:75) اِن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے( 25:76)

 

printer15

جو خدا کی پرواہ کرتا ہے تو

خدا بھی اُس کی پرواہ کرتا ہے

 

کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ  پروا نہیں کرتا ۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اِس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہو گی  (25:77)

 

printer15

میرا رَبّ تو وہ ہے

 

جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے (26:78) اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے (26:79) اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے (26:80) اور وہ جو مجھے مارے گا (اور) پھر زندہ کرے گا (26:81) اور وہ جس سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا (26:82)  اے میرے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور صالحین میں شامل کر (26:83) اور جس دن لوگ اُٹھا کھڑے کئے جائیں گے مجھے رُسوا نہ کرنا (26:87) جس دن نہ مال ہی کچھ  فائدہ  دے سکے گا اور نہ بیٹے (26:88) ہاں جو شخص خدا کے حضور راست دل لے کر آیا (وہ بچ جا ئے گا) (26:89)

 

printer15

خدا کی بجائے اشیاء و افراد کا

 پرچار کرنے والوں کا انجام

 

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی (26:90) اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی (26:91) اور اُن سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟ (26:92) ( یعنی جن کی) خدا کے سوا (تعریف کرتے اور جن کے آگے عاجزی کو دین سمجھتے تھے) کیا وہ (آج) تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا خود (کسی سے) بدلہ لے سکتے ہیں؟ (26:93) تو وہ (شرک کا پرچار کرنے والے) اور گمراہ (یعنی خدا کو چھوڑ کر اشیاء وافراد کے آگے عاجزی کرنے والے) اُوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے (26:94) اور شیطان کے لشکر سب کے سب (جو انسان، اشیاء اور جانور پرست ہیں داخلِ جہنم ہوں گے) (26:95)  وہاں وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے (26:96) کہ خدا کی قسم ہم توصریح گمراہی میں تھے (26:97) جب کہ تمہیں (اے گمراہ کرنے والے پیشواﺅ! تمہاری پیروی کی خاطر) خدا ربّ العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے (حالانکہ تم ہمارے دشمن تھے نہ تو خدا  تھے اور نہ ہی خدا کے ہاں سے فیصلہ کرنے والے تھے) (26:98) اور ہم کو (اے انسان پرستی سکھانے اور سمجھانے والے ابلیسی) گنہگارو! تم ہی نے  گمراہ کیا تھا (26:99) تو (آج تمہارے جھوٹے وعدے کے مطابق) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے (26:100) اور نہ کوئی محبوب دوست (جبکہ تم نے کہا تھا کہ ہمارے محبوب دوست سفارش کر کے ضرور ہم سب کو خدا سے بچا لیں گے) (26:101) کاش ہمیں (دُنیا میں) پھر جانا ہو تو ہم (خالص و خاص خدا کے) مومنوں میں ہوجائیں (26:102)  بےشک اِس میں (کبھی نہ ٹلنے والی) آیت ہے اور اُن میں اکثر (آیات سن کر بھی) ایمان لانے والے نہیں (26:103) اور تمہارا پروردگار تو (ایک اکیلا ہی) غالب (اور) مہربان (خدا) ہے  (26:104)

 

printer15

خدا کا قانون ظلم کرنا نہیں ہے

 

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے تھے (26:208) (تاکہ) نصیحت (کر دیں) اور ہم ظالم نہیں ہیں  (26:209)

 

printer15

سجدہ سے مراد سجدہ ہی ہے

منکرانِ عبادت کے لئے دعوتِ فکر

 

(ہُدہُد نے کہا) میں نے دیکھا کہ وہ اور اُس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال اُنہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور اُن کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ (خدا کی عبادت کے) رستے پر نہیں آتے (27:24) (اور نہیں  سمجھتے) کہ خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چُھپی چیزوں کو ظاہر کر دیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں سجدہ نہ کریں (حالانکہ صرف خدا ہی کے حضور سجدہ لازم ہے) (27:25) خدا کے سوا کوئی عبادت (و تعریف) کے لائق نہیں وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے (27:26)

 

printer15

بسم اللہ بہت پہلے سے رائج ہے

 

وہ (خط) سلیمان کی طرف سے ہے اور (مضمون یہ ہے) کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خدا کے حکم سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (27:30)

 

printer15

بھلا خدا بہتر ہے یا وہ

جن کو یہ شریک بناتے ہیں؟

 

کہہ دو کہ ہر تعریف کے قابل خدا ہی ہے اور اُس کے بندوں کے لئے امن و سلامتی ہے جن کو اُس نے (اپنا قاصد بنانے کے لئے) منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (مدد گار و کارساز خیال کر کے اُس کا) شریک بناتے ہیں؟ (27:59)

 

printer15

اللہ ہی سب کا لجپال ہے

 

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور(کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اِن (باغوں) کے درختوں کو اُگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اورمعبود (نفع و نقصان پہنچانے والا لجپال) بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں (27:60) بھلا کس نے زمین کو قرارگاہ  بنایا اور اِس کے بیچ نہریں بنائیں اور اِس کے لئے پہاڑ بنائے؟ اور (کس  نے) دو دریاﺅں کے بیچ  اوٹ بنائی؟ (یہ سب کچھ خدا نے کیا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود (نفع و نقصان پہنچانے والا لجپال) بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے  (27:61)

 

printer15

نہ تو اللہ کے سِوا کوئی مشکل کشاء ہے

 اور نہ کوئی اللہ کے سِوا استغاثہ سننے والا غوث ہے

اِس آیت کے مطابق غوثِ اعظم یعنی

سب سے بڑا فریاد سننے والا صرف اللہ ہے

 

بھلا کون بیقرارکی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا (استغاثہ و فریاد) کرتا ہے؟ اور (کون اُس کی) مشکل و تکلیف کو دور کرتا ہے؟ اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے؟ (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ اور معبود (غوث، مشکل کشا اور کارساز ومددگار) بھی ہے؟ ہرگز نہیں (مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو (27:62)

 

printer15

ہادی و مرشد اورعالمین پر رحمت کرنے والا

صرف خدا ہے

 

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بتاتا اور (کون) ہواﺅں کو اپنی رحمت کے آگے خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے؟ (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود (عالمین پر رحمت کرنے والا) بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) یہ (انسانوں کو خدا کے ساتھ  ہادی و رحمٰن یعنی معبود بنا لینے والے) لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اِس سے بلند ہے (27:63)

 

printer15

صرف اللہ سب کا داتا یعنی رَبِّ عظیم ہے

 

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے؟ اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود (رَبِّ عظیم یعنی داتا) بھی ہے؟ (جبکہ کوئی خدا کی برابری کرنے والا نہیں) کہہ دو کہ اگر تم سچّے ہو تواپنی دلیل (کے طور پر آیات) پیش کرو  (27:64)

 

printer15

حضور یعنی ہر جگہ حاضر و ناظر

 اور پوشیدہ یا مخفی یا غیب کا

جاننے والا صرف اور صرف اللہ ہے

 

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اُٹھائے جائیں گے (27:65) بلکہ (انسان پرستی میں) آخرت کے متعلق اِن کا علم ضائع ہو چکا ہے بلکہ وہ اِس سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہو چکے ہیں (27:66) اور ان (خدا کے دشمنوں) کے حال پر غم نہ کرنا اور نہ ان چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا (27:70) اورکہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ (27:71) کہہ دو کہ جس (عذاب ) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ  تمہارے (بالکل) نزدیک آ پہنچا ہو (27:72) اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے (27:73) اورجو باتیں اِن کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اورجو کام یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اُن (سب) کوجانتا ہے (27:74)

 اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتابِ روشن میں (لکھی ہوئی) ہے (27:75) تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) ان میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے (27:78) تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حقِ صریح (توحید یعنی ایک اکیلے خدا کی عبادت و اطاعت) پر قائم  ہو (27:79)

 

printer15

مُردوں کو تو رسول علیہ السلام

 بھی کچھ نہیں سنا سکتے تھے

لہذا مردہ پرستوں کا یہ کہنا کہ مُردے

سنتے ہیں محض خیالِ باطل ہے

 

 کچھ شک نہیں کہ (اے پیغامبر) تم مُردوں کو (بات) نہیں سُنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ منہ پھیر کر چل دیں (زندہ ہونے کے باوجود) آواز سُنا سکتے ہو (27:80) اور نہ اندھوں (آیات کا انکار کرنے والوں) کو گمراہی سے(نکال کرسیدھا) رستہ دکھا سکتے ہو تم تو اُنہی کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں  (27:81)

 

printer15

قیامت سے قبل آیات کا مفہوم بتانے

 والا جاندار قیامت کی آخری نشانی ہے

 

 اور جب ان کے بارے میں وعدہ  پورا ہو گا تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک (بے نام) جاندار نکالیں گے جو ان سے (آیات کی حقیقت مفہوم واضح کر کے) بیان کر دے گا۔ اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے (27:82)

 

printer15

قیامت میں کوئی لین دین نہیں ہوگا ۔

 ہر ایک کو اُس کے اپنے اعمال ہی کا بدلہ ملے گا

 

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے تم کو تو (صرف) اُنہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو (27:90)

 

printer15

اللہ تعالیٰ ہی مفہوم سمجھانے کے لئے کافی ہے

نہ کہ پیشہ ور پیشوا جو محکم احکام سناتے ہی نہیں

 

اور (کہو مجھے) یہ بھی (حکم ہوا ہے) کہ قرآن (کو بذاتِ خود اعمال درست کرنے کے لئے بغور) پڑھا کروں تو جو شخص راہِ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کیلئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہتا ہے تو اُسے کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں (27:92)

 

printer15

پیچھا چُھڑانے کے لئے سلام بھیجنا

 

اور جب (مشرکوں اور کافروں کی) بیہودہ بات سنتے ہیں تو (خدا کے طرفدار) اِس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ تم کو سلام ۔ ہمیں جاہلوں کی خواہش نہیں ہے  (28:55)

 

printer15

خدا ہی وہ ایک اکیلا عالمین پر

 رحمت کرنے والا رحمٰن ہے کہ جو

 جسے چاہے ہدایت دے سکتا ہے

 

تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ خدا ہی (وہ رحمٰن ہے کہ جو) جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ  ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے (28:56)

 

printer15

ایک اکیلا خدا ہی حقیقی وارث ہے

 تم سمجھتے کیوں نہیں؟

 

 اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں غرور کر رہے تھے سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد  آباد ہی نہیں  ہوئے مگر بہت کم اور اُن کے بعد ہم  ہی اُن کے وارث ہوئے (28:58)

 

printer15

خدا کی ڈانٹ

 

اور جس روز (خدا) اُن کو ڈانٹے گا اورکہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں بڑا دعویٰ (اور مان) تھا (کہ پیشی کے وقت ضرور کام آئیں گے)؟ (28:62)

 

printer15

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے

کہ یہ لوگ کون ہوں گے؟

 

 (تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہو چکا ہو گا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اُسی طرح اِن کو بھی ہم نے گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہو کر) اِن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں تو نہیں پوجتے تھے (28:63)  اور کہا جائے گا کہ (نہیں نہیں تم) اپنے (اُن) شریکوں کو بلاﺅ (جن کو نفع ونقصان پہنچانے پر قادر مانتے تھے)۔ تو تب وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اِن کو جواب نہ دے سکیں گے اور(جب) عذاب کو دیکھ لیں گے( تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے (28:64)

 اور جس روز (خدا) اُن کو ڈانٹے گا اور کہے گا تم نے(میرا) پیغام پہنچانے والوں کو کیا جواب دیا تھا؟ (وہ انکار اب کرو اگر سچے ہو) (28:65) تو وہ اُس روز(عذاب پر عذاب کی) خبروں سے اندھے ہوجائیں گے اور آپس میں کچھ  بھی (نہ تو صلاح مشورہ کر سکیں گے اور) نہ کچھ  پوچھ سکیں گے (28:66) لیکن جس نے(شرک سے) توبہ کی اور ایمان لایا اور بھلے کام کئے تو اللہ سے اُمید (رکھے) کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو (سکتا ہے)  (28:67)

 

printer15

کُن کہنے والے خدا کی قدرت اور

 فنِ تخلیق کی کوئی حد نہیں ہے

 

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے (جب چاہتا ہے بہتر سے بہتر اور اچھے سے اچھا) پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کر لیتا ہے۔ ان (خدا کے حضور عاجزی کرنے والے برگزیدہ بندوں) کو (اِس کا) اختیار نہیں ہے (کہ کسی کا کچھ بھلا کر سکیں) یہ (خدا کے خلاف انسانوں کی طرف داری کرنے والے مبالغے کی صورت) جو شرک کرتے ہیں خدا اِس سے پاک و بالاتر ہے (28:68) اور اِن کے سینے جو کچھ مخفی کرتے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو خوب جانتا ہے (28:69)

 

printer15

معبود کا مطلب

 

 اور وہی ایک اکیلا خدا ہے اُس کے سِوا کوئی معبود (ہر شے پر قادر نفع یا نقصان پہنچانے والا) نہیں، دنیا اور آخرت میں اُسی کی تعریف ہے اور اُسی کا حکم ہے اور اُسی کے حضور تم پیش کئے جاﺅ گے (28:70) کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سِوا کون معبود (ایسا علم و اختیار والا) ہے جو تم کو روشنی (دن) لا  دے تو کیا تم سنتے نہیں؟ (28:71) کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود (ایسی قدرت رکھتا) ہے کہ تم کو رات لا دے جس میں تم آرام کرو تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ (28:72)

 

printer15

جن کا تم کو بڑا دعویٰ تھا کہ خدا سے بچا لیں گے

آج وہ خدا کے شریک کہاں ہیں؟

 

 اور جس دن وہ ان کو ڈانٹے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں (بڑا) دعویٰ (اور مان) تھا کہاں ہیں؟ (تو وہ  دب کر رہ جائیں گے) (28:74) اور ہم ہر ایک اُمّت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ (جو تم شرک کرتے رہے ہو اُسے درست ثابت کرنے کے لئے) اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا ہی کی ہے اور جو کچھ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے اُن سے جاتا رہے گا (28:75)

 

printer15

نہ محبت رہے گی نہ محبّ، جب سب کچھ فنا ہو جائے گا

اور صرف اور صرف محبوبِ حقیقی رَبِّ عظیم

باقی رہ جائے گا تو توحید واضح ہو جائے گی۔

خدا کے سِوا ہر فرد و شے فانی ہے تو لوگوں کا

خدا کے شریک بنانا کیا ہے؟

 

اور خدا (رحمٰن) کے ساتھ  کسی اور کو معبود (رحمٰن سمجھ کر) نہ پکارنا اُس کے سوا کوئی (نفع یا نقصان پہنچانے والا) معبود نہیں۔ اُس کی (بے عیب) ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے اُسی کا حکم ہے اور اُسی کے حضور تمہاری پیشی ہے (28:88)

 

printer15

حشر میں جن کے گناہ معاف ہو جائیں گے

جو ضرورتوں اور خواہشوں سے بے نیاز ہے

اور جس کو نہ نفع ہوتا ہے نہ نقصان

اُس خدا سے آخری کام ہے

 

 جو شخص خدا سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا خدا ہے (29:5) اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے (اور) خدا تو سارے جہان سے بے نیاز ہے (29:6) اور جو لوگ ایمان لائے اور آیات کے مطابق عمل کرتے رہے ہم اُن کے گناہوں کو اُن سے دور کردیں گے اور اُن کو اُن کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے (29:7)

 

printer15

کسی کی بیعت سے نہ تو گناہ معاف ہوتے ہیں

اور نہ ہی دوزخ کی آگ حرام ہوتی ہے

 

 اور جو (حساب کے دن اور خدا کی عدالت کے) کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی (ہماری بیعت کر کے) کرو ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے(یعنی بیعت سے تم پر دوزخ کی آگ حرام ہو جائے گی) حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں کچھ  شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں (29:12) اور یہ اپنے بوجھ  بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کہ جن کو یہ لالچ دے کر اور جھوٹ بول کر گمراہ کرتے ہیں کے) بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور جو جو بہتان یہ (خدا کے خاص اور خدا کے کارساز و مددگار بن کے) باندھتے رہے ہیں قیامت کے دن اِن سے اُن سب بہتانوں کی (ایک ایک کر کے) ضرور پرسِش ہو گی  (29:13)

 

printer15

پیغام پہنچانے والے کے ذمے آیات

 کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں ہے

”مرادیں حاصل کرنے کے لئے انسانوں

 کے آگے عاجزی نہ کرو !“

 

اور ابراہیم کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اُس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (29:16)  تم تو خدا (جو ہر طرح کی استطاعت کا ایک اکیلا مالک ہے) کو چھوڑ کر بُتوں (اشیاء و افراد) کو  پوجتے اور (شرک کرنے کے لئے خدا پر جھوٹ اوربہتان بازی کا شیطانی) طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سِوا (رزق دینے والے خیال کر کے راضی کرنے کی خاطر ناچ گا کر اور دعا وسجدہ کر کے) پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو (جو سب کا رازق ہے) اور اُسی کی عبادت کرو اور اُسی کا شکر کرو اُسی کے حضور (آخرِ کار) تم  پیش کئے جاﺅ گے (29:17) اور اگر تم تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی امتیں (خدا کی ہدایت اور نصیحت کی) تکذیب کر چکی ہیں اور پیغام پہنچانے والے کے ذمّے کھول کر سنا دینے کے سِوا اور کچھ نہیں ہے (29:18)

 

printer15

اے انسان پرستو! خدا ہی کے طالب بنو

آگے بڑا خطرہ ہے

 

 خدا (جو رَبِّ الافواج  ہے اپنی مرضی کا مالک ہے اور کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہے) جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے اور اُسی کے حضور تم پیش کئے جاﺅ گے (29:21) اور تم (خدا کو) نہ زمین میں عاجز کر سکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سِوا تمہارا کوئی ولی ہے اور نہ مدد گار (29:22)  اور جن لوگوں نے (کسی بھی طرح سے) خدا کی آیتوں سے انکار کیا اور خدا کے حضور (مرادوں کے حصول کی خاطر) پیشی کے منکر ہوئے وہ میری رحمت وعطا سے نااُمید ہو گئے اور ایسے (مایوس ہو کر ناکامی کے سبب شرک میں مبتلا ہونے والے بے صبروں اور غم کے ماروں) کو درد دینے والا عذاب ہو گا (29:23)

 

printer15

اپنے بنائے ہوئے بُتوں کے آگے عاجزی کرنے والے

 

 اور (ابراہیم نے) کہا کہ تم جو خدا (کے حضور عاجزی) کو چھوڑ کر (اپنے بنائے ہوئے خیالی) بُتوں (یعنی خدا کے عاجز زندہ اور مُردہ انسانوں کی بے جان صورتوں اور باقیات) کو کارساز سمجھ  بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی (اور فائدے) کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن ایک دوسرے (کی حمایت اور رفاقت اور مدد) سے انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر (کُھلی) لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور کوئی تمہارا مدد گار نہ ہو گا (29:25)

 

printer15

خدا کے سِوا کسی سے آس لگانا

 مکڑی کا گھر بنا لینا ہے

 

جن لوگوں نے خدا کے سِوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام  گھروں سے کمزور مکڑی ہی کا گھر ہے کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ (اِس بات کو) جانتے (29:41)  یہ جس چیز کو خدا کے سِوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ بھی ہو خدا اُس (کی کمزوریوں) کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے (29:42)

 

printer15

”الله تعالیٰ کا ذکر اکبر ہے“

اِس لئے کہا گیا ہے تاکہ لوگ الله ہی کا ذکر قائم کریں

اور کسی اور کا ذکر کر کے مشرک نہ بنیں ۔

جس نے حکم مانا اُس نے حکم کی آیت کی تلاوت کی

 

یہ کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اِس کی (اپنے عمل سے) تلاوت (پیروی) کرو اور عبادت و اطاعت (اور حق کی ادائیگی) کے پابند رہو۔ کچھ  شک نہیں کہ عبادت و اطاعت (اور حق کی ادائیگی) بے حیائی اور بُری باتوں سے (بیزاری کا درس دے کر اور خدا کے عذاب کا خوف دِلا کر اور انجام کا خوف طاری کر کے) روکتی ہے اور خدا کا ذکر اکبر (یعنی خدا کے ذکر کے مقابلے میں افراد و اشیاء کا ذکر بے حد پست و حقیر) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے (اور اِس کی حقیقت کو) جانتا ہے (29:45)

 

printer15

علم و دلیل کی اہمیت

 

اور اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ جو نہایت اچھا ہو ہاں جو اُن میں سے بے انصافی کریں (اُن کے ساتھ جیسے ہو سکے ویسے اتمامِ حجت کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اورجو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک اکیلا خدا ہی ہے اور ہم اُسی کے حکموں پر چلنے والے فرمانبردار ہیں (29:46) اور اِسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اِس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض اُن (بے راہ بت یا مردہ پرست) لوگوں میں سے بھی اِس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو (کردار کی بدی کے سبب) انکار کرنے والے ہیں (29:47)

 

printer15

سینوں میں آیات

 

 بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو (الله تعالیٰ کے ہاں سے)علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (روشن) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو (مَن پسند) بُرائی چھوڑنا ہی نہیں چاہتے (29:49)

 

printer15

پیغام تمام مومنوں کے لئے

خدا کی رحمت اور نصیحت ہے

 

کیا ان لوگوں کیلئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کیلئے اِس میں رحمت اور نصیحت ہے (29:51)

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا (اور خدا کے پیغام) سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں (29:52)

 

printer15

اللہ کے سِوا کوئی داتا

 یعنی رَبِّ عظیم نہیں ہے

 

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی اِن کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ (ہر جگہ ہر آن) سننے والا (اور) جاننے والا ہے (تو اُس پتھر میں کیڑے کو رز ق دینے والے کے سِوا کسی کو اپنا داتا یعنی کارساز و مددگار سمجھ  کر نہ پکارو) (29:60)

 

printer15

سب کچھ صرف اور صرف خدا کے قبضہٓ قدرت میں ہے

 

اور اگر اِن (خدا کے سِوا اپنا کارساز بنا لینے والوں) سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ اور سورج اور چاند کو کس نے تمہارے لئے کام میں لگایا؟ توکہہ دیں گے خدا نے۔ تو پھر یہ (سیدھا رستہ چھوڑ کر) کدھر (حاضری لگوانے) چلے جا رہے ہیں؟ (29:61)

 

printer15

شرک ہمیشہ امن و سکون کے وقت کیا جاتا ہے

 

 پھر جب یہ (طوفان میں ڈولتی) کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا ہی کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے توجھٹ شرک کرنے لگ جاتے ہیں (29:65) تاکہ جو ہم نے ان کوبخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو جو چاہے کر لیں) عنقریب ان کو (اِس کا انجام) معلوم ہو جائے گا  (29:66)

 

printer15

شرک کی تعلیم دینے والے 

 

اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بُہتان باندھے یا جب حق بات (آیت) اُس کے پاس آئے تو اِس کی تکذیب کرے؟ کیا انکار کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟ (29:68) اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنی ہدایت کے رستے دکھا  دیں گے اور خدا تو بھلائی کرنے والوں کے ساتھ  ہے (29:69)

printer2

جب حشر میں شافعِ محشر یعنی بدلے کے دن شفاعت کرنے والے اور شفیع المذنبین یعنی گنہگاروں کو اپنی شفاعت کے ذریعے جہنم سے بچانے والے کہیں نظر نہیں آئیں گے تو بڑا ہنگامہ ہو گا کیا ہی اچھا ہوتا اگر آج شفاعت کے طالب لوگ اِن آیات سے واقف ہو جاتے

اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار(شفاعت کا معاملہ گڑ بڑ ہوتا دیکھ کر) نااُمید ہو جائیں گے (30:12) اور اِن کے (بنائے ہوئے خدا کے) شریکوں میں سے کوئی اِن کی شفاعت کرنے والا  نہ ہو گا اور یہ اپنے (شفاعت کرنے والے) شریکوں سے نامعتقد ہو جائیں گے (30:13)  اور جس دن قیامت برپا ہو گی اُس روز وہ (اپنے گناہوں اور ظلموں اور جرائم کے اعتبار سے) الگ الگ گروہ ہو جائیں گے (30:14) تو جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے حکموں کے مطابق صالح عمل کرتے رہے وہ (بہشت کے) باغ میں خوشحال ہوں گے (30:15) اورجنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں (کو قولاً فعلاً) اور آخرت (بدلے کے دن کو شفاعت کا دن بنا کر اِس) کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے (کوئی اِن کو پوچھنے والا نہ ہو گا) (30:16)

 

printer15

 

خدا کے برابر کون ؟
جبکہ نہ تو نوکر مالک کے برابر ہوتا ہے

اور نہ بھیجا ہوا اپنے بھیجنے والے کے برابر ہو سکتا ہے

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (نوکروں اور غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اُس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں؟ اور (کیا) تم اِس میں (اُن کو اپنے) برابر ( مالک سمجھتے ہو) اور(کیا) تم اُن سے اِسی طرح ڈرتے ہو جس طرح ایک دوسرے سے ڈرتے ہو؟ اِس طرح عقل والوں کے لئے ہم اپنی آیات (غور کرنے کے لئے) کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (30:28) مگر جو (شرک کرنے والے) ظالم ہیں بے سمجھے (اور بِلا جواز) اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا (اُس کے بُرے اعمال کے سبب) گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور اُن کا (کسی بھی معاملے میں اور کبھی بھی) کوئی مددگار نہیں ہو سکتا (30:29)

 

printer15

سیدھا دین

تو تم ایک اکیلے خدا کے ہو کر دین (خدا کے دکھائے ہوئے راستے پر) سیدھے رُخ (یعنی مثبت طریق پر) چلتے جاﺅ (اور) خدا کی فطرت (قانون) کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اور کتاب کی صورت نازل کیا ہے پوری طرح اختیار کئے رہو)۔ خدا کی بنائی ہوئی (اور دکھائی ہوئی فطرت کے قانون) میں تغیر و تبدّل نہیں ہو سکتا یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ (کچھ) نہیں جانتے (30:30) (مومنو) اُسی (خدا) کے حضور متوجہ  رہو اور اُس کی نافرمانی سے ڈرو اور عبادت و اطاعت (حق کی ادائیگی) قائم کرو اور ہرگز خدا کا شریک بنانے والوں میں شامل نہ ہونا (ورنہ ہلاک ہو جاﺅ گے) (30:31)

 

printer15

فرقے چھوڑ دو۔ تمہاری پہچان صرف
خدا کی بندگی اور فرمانبرداری ہے

(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود اپنی ضد بازی کی وجہ سے) فرقہ فرقہ (الگ الگ) ہو گئے۔ سب فرقے اُسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس (برائے اختلاف اور برائے فرقہ پرستی موجود) ہے (30:32)

 

printer15

احسان فراموش یہ نہیں جانتے کہ شرک کرنا

خدا کی ناشکری کرنا ہے

اور پھر جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو (خالص ہو کر) اپنے پروردگار ہی کوپکارتے ہیں اور اُسی کے حضور متوجہ ہوتے ہیں ۔ پھر جب وہ اُن کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے (خدا کی عطا کو غیرِ خدا کا دیا ہوا عطیہ بتا کر) اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے (30:33)  تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (اے خدا کے شریک بنانے والو!) فائدے اٹھا لو عنقریب تم کو (اِس کا ہولناک انجام) معلوم ہو جائے گا (30:34)

 

printer15

اگر سچے ہو تو شرک کی دلیل دو

 

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل (آیت) نازل کی ہے کہ ان کو (ہر طرح کی استطاعت و طاقت والے) خدا کے ساتھ  شرک کرنا سکھاتی ہے؟ (ہرگز نہیں) (30:35) اور جب ہم لوگوں کواپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اِس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اِنہی کے (برے) عملوں کے سبب جو اِن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی نقصان پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں (30:36)

 

printer15

خدا کی بستی میں نہ غریب ہوں نہ فاقہ کش
اپنے رزق میں سے دوسروں کا حق ادا کرو

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی (جس کے لئے چاہتا ہے) رزق فراخ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے؟ بے شک اِس میں ایمان لانے والوں کے لئے آیات ہیں (30:37) تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں (30:38)

 

printer15

عالمین پر رحمت کرنا خدا ہی کا کام ہے

تو تم مُردوں کونہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ منہ پھیر کر لوٹ جائیں آواز سنا سکتے ہو (30:52) اور نہ اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (نکال کر یعنی اُن پر رحمت کر کے) راہِ راست پر لا سکتے ہو تم تو اُنہی لوگوں کو سنا سکتے ہوجو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں (30:53)

 

printer15

لَھۡوَ الۡحدیث (بیہودہ اقوال)

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بیہودہ اقوال خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بغیر علم کے (اپنی جہالت سے) خدا کے رستے سے گمراہ کرے اور اِس (احسن الحدیث کلام) کا مذاق اُڑائے ایسے ہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا (31:6) اور (شیطانی باتوں اور اقوال کا ایسا حمایتی ہے کہ) جب اِس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو غرور سے منہ پھیر لیتا ہے گویا اِن کو سنا ہی نہیں جیسے اِس کے کان بہرے ہوں تو اِس کو درد  دینے والے عذاب کی خبر سنا دو(31:7) جو لوگ ایمان لائے اور آیات کے مطابق عمل کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں (31:8)  ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا ہی کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے (31:9)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s